حدیث نمبر: 637
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِحَافِهِ ، فَوَجَدْتُ مَا تَجِدُ النِّسَاءُ مِنَ الْحَيْضَةِ ، فَانْسَلَلْتُ مِنَ اللِّحَافِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَفِسْتِ " ؟ قُلْتُ : وَجَدْتُ مَا تَجِدُ النِّسَاءُ مِنَ الْحَيْضَةِ ، قَالَ : " ذَلِكِ مَا كَتَبَ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ " ، قَالَتْ : فَانْسَلَلْتُ فَأَصْلَحْتُ مِنْ شَأْنِي ، ثُمَّ رَجَعْتُ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعَالَيْ فَادْخُلِي مَعِي فِي اللِّحَافِ " ، قَالَتْ : فَدَخَلْتُ مَعَهُ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے لحاف میں تھی ، تو مجھے حیض کا احساس ہوا جو عورتیں محسوس کرتی ہیں ، تو میں لحاف سے کھسک گئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم کو حیض آ گیا ہے ؟ “ میں نے کہا : مجھے وہی حیض محسوس ہوا جو عورتیں محسوس کیا کرتی ہیں ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ چیز تو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں پر لکھ دی ہے “ ، تو میں لحاف سے کھسک کر نکل گئی اور اپنی حالت ٹھیک کر کے واپس آ گئی ، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آؤ میرے ساتھ لحاف میں داخل ہو جاؤ “ تو میں آپ کے ساتھ لحاف میں داخل ہو گئی ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: مساس، معانقہ، بوسہ وغیرہ سب درست ہے، ابوداؤد نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے اپنی عورت سے جب وہ حائضہ ہو کیا کرنا درست ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تہبند کے اوپر فائدہ اٹھانا، اور اس سے بھی بچنا افضل ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / أبواب التيمم / حدیث: 637
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 18241 ، ومصباح الزجاجة : 239 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الحیض5 ( 298 ) ، 21 ( 3225 ) ، 22 ( 323 ) ، صحیح مسلم/الحیض 2 ( 296 ) ، سنن النسائی/الطہارة 179 ( 284 ) الحیض 10 ( 317 ) ، مسند احمد ( 6/ 294 ، 300 ) ، سنن الدارمی/الطہارة 107 ( 1084 ) ( حسن ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´حائضہ عورت سے مرد کس حد تک فائدہ اٹھا سکتا ہے؟`
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے لحاف میں تھی، تو مجھے حیض کا احساس ہوا جو عورتیں محسوس کرتی ہیں، تو میں لحاف سے کھسک گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم کو حیض آ گیا ہے؟ میں نے کہا: مجھے وہی حیض محسوس ہوا جو عورتیں محسوس کیا کرتی ہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ چیز تو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں پر لکھ دی ہے ، تو میں لحاف سے کھسک کر نکل گئی اور اپنی حالت ٹھیک کر کے واپس آ گئی، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آؤ میرے ساتھ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 637]
اردو حاشہ:
حالت درست کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کپڑوں کو آلودہ ہونے سے بچانے کیلیے معمول کے مطابق بندوبست کرلیا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 637 سے ماخوذ ہے۔