سنن ابن ماجه
أبواب التيمم— کتاب: تیمم کے احکام و مسائل
. بَابُ : مَا لِلرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ إِذَا كَانَتْ حَائِضًا باب: حائضہ عورت سے مرد کس حد تک فائدہ اٹھا سکتا ہے؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِحَافِهِ ، فَوَجَدْتُ مَا تَجِدُ النِّسَاءُ مِنَ الْحَيْضَةِ ، فَانْسَلَلْتُ مِنَ اللِّحَافِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَفِسْتِ " ؟ قُلْتُ : وَجَدْتُ مَا تَجِدُ النِّسَاءُ مِنَ الْحَيْضَةِ ، قَالَ : " ذَلِكِ مَا كَتَبَ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ " ، قَالَتْ : فَانْسَلَلْتُ فَأَصْلَحْتُ مِنْ شَأْنِي ، ثُمَّ رَجَعْتُ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعَالَيْ فَادْخُلِي مَعِي فِي اللِّحَافِ " ، قَالَتْ : فَدَخَلْتُ مَعَهُ.
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے لحاف میں تھی ، تو مجھے حیض کا احساس ہوا جو عورتیں محسوس کرتی ہیں ، تو میں لحاف سے کھسک گئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم کو حیض آ گیا ہے ؟ “ میں نے کہا : مجھے وہی حیض محسوس ہوا جو عورتیں محسوس کیا کرتی ہیں ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ چیز تو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں پر لکھ دی ہے “ ، تو میں لحاف سے کھسک کر نکل گئی اور اپنی حالت ٹھیک کر کے واپس آ گئی ، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آؤ میرے ساتھ لحاف میں داخل ہو جاؤ “ تو میں آپ کے ساتھ لحاف میں داخل ہو گئی ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے لحاف میں تھی، تو مجھے حیض کا احساس ہوا جو عورتیں محسوس کرتی ہیں، تو میں لحاف سے کھسک گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تم کو حیض آ گیا ہے؟ “ میں نے کہا: مجھے وہی حیض محسوس ہوا جو عورتیں محسوس کیا کرتی ہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ چیز تو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں پر لکھ دی ہے “، تو میں لحاف سے کھسک کر نکل گئی اور اپنی حالت ٹھیک کر کے واپس آ گئی، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” آؤ میرے ساتھ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 637]
حالت درست کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کپڑوں کو آلودہ ہونے سے بچانے کیلیے معمول کے مطابق بندوبست کرلیا۔