سنن ابن ماجه
أبواب التيمم— کتاب: تیمم کے احکام و مسائل
. بَابٌ في الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ باب: مرد کی طرح عورت کو خواب میں احتلام ہو تو کیا حکم ہے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ " سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَتْ ذَلِكَ فَأَنْزَلَتْ فَعَلَيْهَا الْغُسْلُ " ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَكُونُ هَذَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ مَاءُ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ ، وَمَاءُ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ ، فَأَيُّهُمَا سَبَقَ أَوْ عَلَا أَشْبَهَهُ الْوَلَدُ " .
´انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ عورت اپنے خواب میں وہی چیز دیکھے جو مرد دیکھتا ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب وہ ایسا دیکھے اور اسے انزال ہو ، تو اس پر غسل ہے “ ، ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کے رسول ! کیا ایسا بھی ہوتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، مرد کا پانی سفید اور گاڑھا ہوتا ہے ، اور عورت کا پانی زرد اور پتلا ہوتا ہے ، ان دونوں میں سے جس کا پانی پہلے ماں کے رحم ( بچہ دانی ) میں پہنچ جائے یا غالب رہے ، بچہ اسی کے ہم شکل ہوتا ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے متعلق دریافت کیا جو اپنے خواب میں وہ چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب وہ انزال کرے تو غسل کرے۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 195]
(1)
فَضِحْتِ النِّسَاء: (تو نے ایسی بات کر کے جس کے اظہار میں شرم محسوس کی جاتی ہے)
انہیں رسوا کر دیا ہے، کیونکہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے، ان کے اندر، مرد کے پاس جانے کی شدید خواہش ہے۔
(2)
تَرِبَتْ يَمِيْنُكِ: عربی محاورہ کی رو سے یہ کلمہ ایسے وقت بولتے ہیں جب کسی کی بات پسند نہ ہو، یا اس پر ناراض اور ناگواری کا اظہار کرنا مقصود ہو یا اس بات کا انکار اور اس پر زجروتوبیخ کرنی ہو یا حیرت وتعجب کا اظہار مقصود ہو، لفظی معنی یا بددعا مقصود نہیں ہوتی، اس لیے آپﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے انہیں الفاظ کو استعمال فرمایا، کہ تیری بات قابل انکار ہے، اس نے تو ایک ایسا دینی مسئلہ پوچھا ہے، جو پوچھنا ہی چاہیے تھا۔
فوائد ومسائل: جس طرح احتلام کی صورت میں مرد کے لیے غسل لازم ہے اگر کبھی عورت کو احتلام ہو جائے تو اسے بھی نہانا پڑے گا محض مخصوص جگہ کے دھونے اور وضو کرنے پر کفایت نہیں کر سکے گی۔