حدیث نمبر: 579
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت کے بعد وضو نہیں کرتے تھے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ غسل جنابت سے پہلے وضو کر لیتے تھے، پھر غسل کے بعد آپ نیا وضو نہ فرماتے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / أبواب التيمم / حدیث: 579
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (250) ترمذي (107), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الطہارة 79 ( 107 ) ، سنن النسائی/الطہارة 160 ( 253 ) ، ( تحفة الأشراف : 16019 ، 16025 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الطہارة 99 ( 250 ) ، مسند احمد ( 6/68 ، 119 ، 154 ، 192 ، 253 ، 258 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 253 | سنن نسائي: 430 | سنن ترمذي: 107

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´کیا غسل جنابت کے بعد وضو کی ضرورت ہے؟`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت کے بعد وضو نہیں کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 579]
اردو حاشہ: (1)
اس کی وجہ یہ ہے کہ غسل کرتے وقت پہلے استنجاء کرکے وضو کرلیتے تھے۔
اس کے بعد اعضائے مستورہ ومخصوصہ کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے، اس لیے غسل والے وضو ہی سے نماز پڑھ لیتے تھے۔

(2)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف کہا ہے جبکہ روایت میں مذکورہ مسئلہ فی نفسہ صحیح ہے، غالباً اسی وجہ سے دیگر محققین نے اسے حسن اور صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثيه، مسند إمام احمد: 455، 454/40، حديث: 24389)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 579 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 253 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´غسل کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 253]
253۔ اردو حاشیہ: ➊ مسنون غسل کی ابتدا ہی وضو سے ہوتی ہے، لہٰذا غسل کے بعد وضو کی کوئی ضرورت نہیں رہتی، بشرطیکہ اس نے وضو کے بعد دوران غسل میں اگلی اور پچھلی شرم گاہ کو ہاتھ نہ لگایا ہو ورنہ وضو دوبار ہ کرنا پڑے گا۔
➋ اسی طرح اگر اس نے مسنون غسل نہ کیا ہو، یعنی غسل کی ابتدا وضو سے نہ کی ہو، تب بھی اسے غسل کے بعد وضو کرنا پڑے گا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 253 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 430 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´غسل کرنے کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 430]
430۔ اردو حاشیہ: چونکہ مسنون غسل کی ابتدا ہی وضو سے ہوتی ہے، لہٰذا بعد میں وضو کی ضرورت نہیں، بشرطیکہ وضو کرنے کے بعد غسل کے دوران میں شرم گاہ کو ہاتھ نہ لگا ہو۔ اگر غسل مسنون نہ ہو، یعنی وضو کے بغیر کیا گیا ہو تو بعد میں وضو کرنا ہو گا۔ مزید دیکھیے، حدیث: 253 اور اس کا فائدہ۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 430 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 107 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´غسل کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 107]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی: درمیانِ غسل جو وضو کرچکا ہے وہ کافی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 107 سے ماخوذ ہے۔