سنن ابن ماجه
كتاب الطهارة وسننها— کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
بَابُ : الْوُضُوءِ عَلَى الطَّهَارَةِ باب: وضو پر وضو کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي غُطَيْفٍ الْهُذَلِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي مَجْلِسِهِ فِي الْمَسْجِدِ ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى ، ثُمَّ عَادَ إِلَى مَجْلِسِهِ ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى ، ثُمَّ عَادَ إِلَى مَجْلِسِهِ ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الْمَغْرِبُ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى ، ثُمَّ عَادَ إِلَى مَجْلِسِهِ ، فَقُلْتُ : أَصْلَحَكَ اللَّهُ أَفَرِيضَةٌ أَمْ سُنَّةٌ الْوُضُوءُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ ؟ قَالَ : أَوَ فَطِنْتَ إِلَيَّ ، وَإِلَى هَذَا مِنِّي ، فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ : لَا ، لَوْ تَوَضَّأْتُ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ لَصَلَّيْتُ بِهِ الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا مَا لَمْ أُحْدِثْ ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ تَوَضَّأَ عَلَى كُلِّ طُهْرٍ فَلَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ " ، وَإِنَّمَا رَغِبْتُ فِي الْحَسَنَاتِ .
ابوغطیف ہذلی کہتے ہیں کہ میں نے مسجد میں عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے ان کی مجلس میں سنا ، پھر جب نماز کا وقت ہوا ، تو وہ اٹھے وضو کیا ، اور نماز ادا کی ، پھر مجلس میں دوبارہ حاضر ہوئے ، پھر جب عصر کا وقت آیا تو اٹھے وضو کیا ، اور نماز پڑھی ، پھر اپنی مجلس میں واپس آئے ، پھر جب مغرب کا وقت ہوا تو اٹھے وضو کیا ، اور نماز ادا کی پھر اپنی مجلس میں دوبارہ حاضر ہوئے تو میں نے کہا : اللہ آپ کو سلامت رکھے ، کیا یہ وضو ( ہر نماز کے لیے ) فرض ہے یا سنت ؟ کہا : کیا تم نے میرے اس کام کو سمجھ لیا اور یہ سمجھا ہے کہ یہ میں نے اپنی طرف سے کیا ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں ، بولے : نہیں ، ( ہر نماز کے لیے وضو کرنا فرض نہیں ) اگر میں نماز فجر کے لیے وضو کرتا تو اس سے وضو نہ ٹوٹنے تک ساری نماز پڑھتا ، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس شخص نے وضو ہوتے ہوئے وضو کیا ، تو اس کے لیے دس نیکیاں ہیں “ ، اور مجھ کو ان نیکیوں ہی کا شوق ہے ۔