سنن ابن ماجه
كتاب الزهد— کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
بَابُ : صِفَةِ النَّارِ باب: جہنم کے احوال و صفات کا بیان۔
حدیث نمبر: 4322
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُخْتَارِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْكَافِرَ لَيَعْظُمُ حَتَّى إِنَّ ضِرْسَهُ لَأَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ , فَضِيلَةُ جَسَدِهِ عَلَى ضِرْسِهِ , كَفَضِيلَةِ جَسَدِ أَحَدِكُمْ عَلَى ضِرْسِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کافر جہنم میں اتنا بھاری بھر کم ہو گا کہ اس کا دانت احد پہاڑ سے بڑا ہو جائے گا ، اور اس کا باقی بدن دانت سے اتنا ہی بڑا ہو گا جتنا تمہارا بدن دانت سے بڑا ہوتا ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جہنم کے احوال و صفات کا بیان۔`
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کافر جہنم میں اتنا بھاری بھر کم ہو گا کہ اس کا دانت احد پہاڑ سے بڑا ہو جائے گا، اور اس کا باقی بدن دانت سے اتنا ہی بڑا ہو گا جتنا تمہارا بدن دانت سے بڑا ہوتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4322]
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کافر جہنم میں اتنا بھاری بھر کم ہو گا کہ اس کا دانت احد پہاڑ سے بڑا ہو جائے گا، اور اس کا باقی بدن دانت سے اتنا ہی بڑا ہو گا جتنا تمہارا بدن دانت سے بڑا ہوتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4322]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
مذکورہ حدیث کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
اور مزید لکھا ہے کی مذکورہ حدیث کا پہلا جملہ (ان الکافر۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
من احد)
شواہد کی بنا پہ صحیح ہے اور محققین کی بھی مذکورہ روایت کے بارے میں بھی یہی رائے ہے۔
بنا بریں مذکورہ روایت کا صرف پہلہ جملہ ہی صحیح ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھے: (الصحیحة للألباني، رقم: 601 و الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد 23: 13، 14)
(2)
جہنمیوں کے جسموں کا بڑا ہونا بھی عذاب ہی کی ایک صورت ہے۔
(3)
قرآن مجید میں ہے کہ جہنمیوں کو ایک تنگ مقام میں ڈ الا جائے گا۔ دیکھیے: (فرقان 13: 25)
جسم بڑا ہونے کی وجہ سے بھی جگہ تنگ محسوس ہوگی۔
(4)
قد و قامت کو اتنا بڑا کرنے کا مقصد عذاب میں اضافہ کرنا ہے۔
فوائد ومسائل: (1)
مذکورہ حدیث کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
اور مزید لکھا ہے کی مذکورہ حدیث کا پہلا جملہ (ان الکافر۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
من احد)
شواہد کی بنا پہ صحیح ہے اور محققین کی بھی مذکورہ روایت کے بارے میں بھی یہی رائے ہے۔
بنا بریں مذکورہ روایت کا صرف پہلہ جملہ ہی صحیح ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھے: (الصحیحة للألباني، رقم: 601 و الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد 23: 13، 14)
(2)
جہنمیوں کے جسموں کا بڑا ہونا بھی عذاب ہی کی ایک صورت ہے۔
(3)
قرآن مجید میں ہے کہ جہنمیوں کو ایک تنگ مقام میں ڈ الا جائے گا۔ دیکھیے: (فرقان 13: 25)
جسم بڑا ہونے کی وجہ سے بھی جگہ تنگ محسوس ہوگی۔
(4)
قد و قامت کو اتنا بڑا کرنے کا مقصد عذاب میں اضافہ کرنا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4322 سے ماخوذ ہے۔