سنن ابن ماجه
كتاب الزهد— کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
بَابُ : صِفَةِ النَّارِ باب: جہنم کے احوال و صفات کا بیان۔
حدیث نمبر: 4318
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا أَبِي , وَيَعْلَى , قَالَا , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ , عَنْ نُفَيْعٍ أَبِي دَاوُدَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ نَارَكُمْ هَذِهِ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ , وَلَوْلَا أَنَّهَا أُطْفِئَتْ بِالْمَاءِ مَرَّتَيْنِ مَا انْتَفَعْتُمْ بِهَا , وَإِنَّهَا لَتَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُعِيدَهَا فِيهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک تمہاری یہ آگ جہنم کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے ، اور اگر یہ دو مرتبہ پانی سے نہ بجھائی جاتی تو تم اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے تھے ، اور یہ آگ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی ہے کہ دوبارہ اس کو جہنم میں نہ ڈالا جائے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جہنم کے احوال و صفات کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بیشک تمہاری یہ آگ جہنم کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے، اور اگر یہ دو مرتبہ پانی سے نہ بجھائی جاتی تو تم اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے تھے، اور یہ آگ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی ہے کہ دوبارہ اس کو جہنم میں نہ ڈالا جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4318]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بیشک تمہاری یہ آگ جہنم کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے، اور اگر یہ دو مرتبہ پانی سے نہ بجھائی جاتی تو تم اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے تھے، اور یہ آگ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی ہے کہ دوبارہ اس کو جہنم میں نہ ڈالا جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4318]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
ستر کا عدد عربی زبان میں کثرت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ھے۔
یعنی جہنم کی آگ دنیا کی آگ کی نسبت بے انتہا گرم ہے اور حقیقی معنی مراد لینا بھی ممکن ہے یعنی اس کی حرارت اس حرارت کا سترواں حصہ ہے۔
(2)
دنیا کی آگ سے جہنم کی آگ کو یاد کرنا چاہیے۔
تاکہ گناھوں سے بچنا ممکن ہو۔
(3)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بخاری و مسلم کی روایت اس سے کفایت کرتی ہے۔
جبکہ اسکی بابت صحیح اور راجح بات یہ معلوم۔
وتی ہےکہ مذکورہ روایت مکمل صحیح نہیں ہے۔
بلکہ اسکا پہلا حصہ تمھاری یہ آگ جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔
شواہد کی بنا صحیح ہے جبکہ دوسرا حصہ ضعیف ہے کیونکہ اس کا کوئی صحیح شاہد موجود نہیں ہے۔
جیسا کہ دیگر محققین نے اسی طرف اشارہ کیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الضعیفة: رقم: 3208)
فوائد ومسائل: (1)
ستر کا عدد عربی زبان میں کثرت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ھے۔
یعنی جہنم کی آگ دنیا کی آگ کی نسبت بے انتہا گرم ہے اور حقیقی معنی مراد لینا بھی ممکن ہے یعنی اس کی حرارت اس حرارت کا سترواں حصہ ہے۔
(2)
دنیا کی آگ سے جہنم کی آگ کو یاد کرنا چاہیے۔
تاکہ گناھوں سے بچنا ممکن ہو۔
(3)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بخاری و مسلم کی روایت اس سے کفایت کرتی ہے۔
جبکہ اسکی بابت صحیح اور راجح بات یہ معلوم۔
وتی ہےکہ مذکورہ روایت مکمل صحیح نہیں ہے۔
بلکہ اسکا پہلا حصہ تمھاری یہ آگ جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔
شواہد کی بنا صحیح ہے جبکہ دوسرا حصہ ضعیف ہے کیونکہ اس کا کوئی صحیح شاہد موجود نہیں ہے۔
جیسا کہ دیگر محققین نے اسی طرف اشارہ کیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الضعیفة: رقم: 3208)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4318 سے ماخوذ ہے۔