حدیث نمبر: 4302
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنْ أَبِي مَالِكٍ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ , عَنْ رِبْعِيٍّ , عَنْ حُذَيْفَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ حَوْضِي لَأَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ إِلَى عَدَنَ , وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ , وَلَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ , وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ , وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , إِنِّي لَأَذُودُ عَنْهُ الرِّجَالَ كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ الْإِبِلَ الْغَرِيبَةَ عَنْ حَوْضِهِ " , قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَعْرِفُنَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ , تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ , لَيْسَتْ لِأَحَدٍ غَيْرِكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرا حوض ایلہ سے عدن تک کے فاصلے سے بھی زیادہ بڑا ہے ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں ، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، میں اس حوض سے کچھ لوگوں کو ایسے ہی دھتکاروں اور بھگاؤں گا جیسے کوئی آدمی اجنبی اونٹ کو اپنے حوض سے دھتکارتا اور بھگاتا ہے “ ، سوال کیا گیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ ہمیں پہچان لیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، تم میرے پاس اس حالت میں آؤ گے کہ تمہارے ہاتھ اور منہ وضو کے نشان سے روشن ہوں گے ، اور یہ نشان تمہارے علاوہ اور کسی کا نہیں ہو گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4302
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الطہارة 12 ( 248 ) ، ( تحفة الأشراف : 3315 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/383 ، 406 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 248

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´حوض کوثر کا بیان۔`
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میرا حوض ایلہ سے عدن تک کے فاصلے سے بھی زیادہ بڑا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں اس حوض سے کچھ لوگوں کو ایسے ہی دھتکاروں اور بھگاؤں گا جیسے کوئی آدمی اجنبی اونٹ کو اپنے حوض سے دھتکارتا اور بھگاتا ہے "، سوال کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا آپ ہمیں پہچان لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ہاں، تم میرے پاس اس حالت میں آؤ گے کہ ت۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4302]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
  نبی کا حوض صرف آپ کی امت کے لیے ھو گا۔

(2)
نبی امت کے افراد کو اس لیے پہچان لیں گے۔
کہ ان کے ہاتھ پاؤں چمک رہے ہوں گے۔
اس میں اشارہ ہے کہ نبی حاظر و ناضر یا عالم الغیب نہیں ہے۔

(3)
بے نماز لوگ حوض سے پانی نہیں پی سکیں گے کیونکہ ان کو امت محمدیہ کی علامت حاصل نہیں ھو گی۔

(4)
حوض کوثر میں پانی جنت سے آئیگا، اس لیے اس میں جنت کی نعمتوں والی خوبیاں ھوں گی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4302 سے ماخوذ ہے۔