حدیث نمبر: 4259
حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ , حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ , حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ فَرْوَةَ بْنِ قَيْسٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ , فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا " , قَالَ : فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْيَسُ ؟ قَالَ : " أَكْثَرُهُمْ لِلْمَوْتِ ذِكْرًا , وَأَحْسَنُهُمْ لِمَا بَعْدَهُ اسْتِعْدَادًا , أُولَئِكَ الْأَكْيَاسُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ آپ کے پاس ایک انصاری شخص آیا ، اس نے آپ کو سلام کیا ، پھر کہنے لگا : اللہ کے رسول ! مومنوں میں سے کون سب سے بہتر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو ان میں سب سے اچھے اخلاق والا ہے “ ، اس نے کہا : ان میں سب سے عقلمند کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو ان میں موت کو سب سے زیادہ یاد کرے ، اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے سب سے اچھی تیاری کرے ، وہی عقلمند ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / حدیث: 4259
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 7333 ، ومصباح الزجاجة : 1524 ) ( حسن ) » ( سند میں فروہ بن قیس اور نافع بن عبد اللہ مجہول ہیں ، لیکن حدیث دوسرے شواہد سے حسن ہے ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 1384 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : معجم صغير للطبراني: 1048

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´موت کی یاد اور اس کی تیاری کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ آپ کے پاس ایک انصاری شخص آیا، اس نے آپ کو سلام کیا، پھر کہنے لگا: اللہ کے رسول! مومنوں میں سے کون سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو ان میں سب سے اچھے اخلاق والا ہے ، اس نے کہا: ان میں سب سے عقلمند کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ان میں موت کو سب سے زیادہ یاد کرے، اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے سب سے اچھی تیاری کرے، وہی عقلمند ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4259]
اردو حاشہ:
فوائدو مسائل: (1)
اچھا اخلاق اللہ کے ہاں درجات کی بلندی کا باعث ہے۔

(2)
موت کا ذکر کرنے سے دل کی غفلت دور ہوتی ہے۔

(3)
موت کو یاد رکھنے سےآخرت کے لئے تیاری کرنے کی ترغیب ہوتی ہے۔

(4)
اصل عقل مندی آخرت کی نعمتیں حاصل کرنے کے لئے محنت کرنا ہے۔
دنیا کی فانی اور بے حقیقت اشیاء پر پوری توجہ لگا دینا بے وقوفی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4259 سے ماخوذ ہے۔