سنن ابن ماجه
كتاب الزهد— کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
بَابُ : الْوَرَعِ وَالتَّقْوَى باب: ورع اور تقویٰ و پرہیزگاری کا بیان۔
حدیث نمبر: 4219
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَسَبُ الْمَالُ وَالْكَرَمُ التَّقْوَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عالیٰ نسبی ( اچھے حسب و نسب والا ہونا ) مال ہے ، اور کرم ( جود و سخا اور فیاضی ) تقویٰ ہے “ ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´ورع اور تقویٰ و پرہیزگاری کا بیان۔`
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عالیٰ نسبی (اچھے حسب و نسب والا ہونا) مال ہے، اور کرم (جود و سخا اور فیاضی) تقویٰ ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4219]
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عالیٰ نسبی (اچھے حسب و نسب والا ہونا) مال ہے، اور کرم (جود و سخا اور فیاضی) تقویٰ ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4219]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
لوگ مال دیکھ کر عزت کرتے ہیں۔
اونچے خاندان کا ایک آدمی غریب ہوجائے تو اس کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی۔
لوگوں کے ہاں یہ کیفیت ہے۔
(2)
اصل چیز جو عزت واحترام کا باعث ہونی چاہیے وہ کسی کی نیکی اور پرہیز گاری ہے۔
اصل شرف یہی ہے، اس لیے آخرت میں تقویٰ کی بنیاد پر ہی عزت ملے گی۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُم﴾ (الحجرات: 49/ 13)
’’اللہ کے ہاں زیادہ معزز وہ ہے جو زیادہ متقی ہو۔‘‘
فوائد و مسائل:
(1)
لوگ مال دیکھ کر عزت کرتے ہیں۔
اونچے خاندان کا ایک آدمی غریب ہوجائے تو اس کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی۔
لوگوں کے ہاں یہ کیفیت ہے۔
(2)
اصل چیز جو عزت واحترام کا باعث ہونی چاہیے وہ کسی کی نیکی اور پرہیز گاری ہے۔
اصل شرف یہی ہے، اس لیے آخرت میں تقویٰ کی بنیاد پر ہی عزت ملے گی۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُم﴾ (الحجرات: 49/ 13)
’’اللہ کے ہاں زیادہ معزز وہ ہے جو زیادہ متقی ہو۔‘‘
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4219 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3271 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ الحجرات سے بعض آیات کی تفسیر۔`
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «حسب» مال کو کہتے ہیں اور «کرم» سے مراد تقویٰ ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3271]
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «حسب» مال کو کہتے ہیں اور «کرم» سے مراد تقویٰ ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3271]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مؤلف نے یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ ﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾ (الحجرات: 13) کی تفسیر میں ذکر کی ہے۔
نوٹ:
(سند میں سلام بن ابی مطیع قتادہ سے روایت میں ضعیف راوی ہیں، نیز حسن بصری مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
وضاحت:
1؎:
مؤلف نے یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ ﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾ (الحجرات: 13) کی تفسیر میں ذکر کی ہے۔
نوٹ:
(سند میں سلام بن ابی مطیع قتادہ سے روایت میں ضعیف راوی ہیں، نیز حسن بصری مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3271 سے ماخوذ ہے۔