سنن ابن ماجه
كتاب الطهارة وسننها— کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
بَابُ : الْوُضُوءِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا باب: تین تین بار اعضاء وضو دھونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 416
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ فَائِدِ أَبِى الْوَرْقَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، وَمَسَحَ رَأْسَهُ مَرَّةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا ، اور سر کا مسح ایک بار کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´تین تین بار اعضاء وضو دھونے کا بیان۔`
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا، اور سر کا مسح ایک بار کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 416]
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا، اور سر کا مسح ایک بار کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 416]
اردو حاشہ:
اس حدیث سے واضح ہوگیا کہ تین تین بار اعضاء دھونے میں سر کا مسح شامل نہیں وہ ایک ہی بارہوگا۔
اس حدیث سے واضح ہوگیا کہ تین تین بار اعضاء دھونے میں سر کا مسح شامل نہیں وہ ایک ہی بارہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 416 سے ماخوذ ہے۔