حدیث نمبر: 4066
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " تَخْرُجُ الدَّابَّةُ وَمَعَهَا خَاتَمُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ , وَعَصَا مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ عَلَيْهِمَا السَّلَام , فَتَجْلُو وَجْهَ الْمُؤْمِنِ بِالْعَصَا , وَتَخْطِمُ أَنْفَ الْكَافِرِ بِالْخَاتِمِ , حَتَّى أَنَّ أَهْلَ الْحِوَاءِ لَيَجْتَمِعُونَ , فَيَقُولُ : هَذَا يَا مُؤْمِنُ , وَيَقُولُ : هَذَا يَا كَافِرُ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زمین سے «دابة» ظاہر ہو گا ، اس کے ساتھ سلیمان بن داود علیہما السلام کی انگوٹھی اور موسیٰ بن عمران علیہ السلام کا عصا ہو گا ، اس عصا ( چھڑی ) سے وہ مومن کا چہرہ روشن کر دے گا ، اور انگوٹھی سے کافر کی ناک پر نشان لگائے گا ، حتیٰ کہ جب ایک محلہ کے لوگ جمع ہوں گے تو یہ کہے گا : اے مومن ! اور وہ کہے گا : اے کافر ! “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی مومن اور کافر نشان کی وجہ سے معلوم ہو جائیں گے تو ہر ایک شخص مومن کو ایمان کا نشان دیکھ کر مومن کے لقب سے پکارے گا اور کافر کو کفر کا نشان دیکھ کر کافر کہہ کر پکارے گا، غرض اس وقت ایمان اور کفر چھپا نہ رہے گا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الفتن / حدیث: 4066
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (3187), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 522
تخریج حدیث «سنن الترمذی/تفسیر القرآن 28 ( 3187 ) ، ( تحفة الأشراف : 12202 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/2945 ، 491 ، 496 ) ( ضعیف ) » ( سند میں علی بن زید ضعیف اور اوس بن خالد مجہول راوی ہیں )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3187

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´(قرب قیامت) دابۃ الارض (چوپایہ کے نکلنے) کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمین سے «دابة» ظاہر ہو گا، اس کے ساتھ سلیمان بن داود علیہما السلام کی انگوٹھی اور موسیٰ بن عمران علیہ السلام کا عصا ہو گا، اس عصا (چھڑی) سے وہ مومن کا چہرہ روشن کر دے گا، اور انگوٹھی سے کافر کی ناک پر نشان لگائے گا، حتیٰ کہ جب ایک محلہ کے لوگ جمع ہوں گے تو یہ کہے گا: اے مومن! اور وہ کہے گا: اے کافر! ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4066]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے، تاہم دابة الارض کا ظہور احادیث سے ثابت ہے۔ دیکھیے: (سنن ابن ماجة، حديث: 4055، 4056)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4066 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3187 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ النمل سے بعض آیات کی تفسیر۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قیامت کے قریب زمین سے) ایک جانور نکلے گا جس کے پاس سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی (مہر) اور موسیٰ علیہ السلام کا عصا ہو گا، وہ اس عصا سے (لکیر کھینچ کر) مومن کے چہرے کو روشن و نمایاں کر دے گا، اور انگوٹھی کے ذریعہ کافر کی ناک پر مہر لگا دے گا یہاں تک کہ دستر خوان والے جب دستر خوان پر اکٹھے ہوں گے تو یہ کہے گا: اے مومن اور وہ کہے گا: اے کافر! ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3187]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مؤلف اس حدیث کو ارشاد باری ﴿وَأَلْقِ عَصَاكَ﴾ (النمل: 10) کی تفسیر میں ذکر کیا ہے۔

نوٹ:
(سند میں ’’علی بن زید بن جدعان‘‘ ضعیف، اور ’’اوس بن خالد‘‘ مجہول ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3187 سے ماخوذ ہے۔