سنن ابن ماجه
كتاب الفتن— کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : دَابَّةِ الأَرْضِ باب: (قرب قیامت) دابۃ الارض (چوپایہ کے نکلنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 4067
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو زُنَيْجٌ , حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : ذَهَبَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَوْضِعٍ بِالْبَادِيَةِ قَرِيبٍ مِنْ مَكَّةَ , فَإِذَا أَرْضٌ يَابِسَةٌ حَوْلَهَا رَمْلٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَخْرُجُ الدَّابَّةُ مِنْ هَذَا الْمَوْضِعِ , فَإِذَا فِتْرٌ فِي شِبْرٍ " , قَالَ ابْنُ بُرَيْدَةَ : فَحَجَجْتُ بَعْدَ ذَلِكَ بِسِنِينَ فَأَرَانَا عَصًا لَهُ , فَإِذَا هُوَ بِعَصَايَ هَذِهِ كَذَا وَكَذَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مکہ کے قریب ایک جگہ صحراء میں لے گئے ، تو وہ ایک خشک زمین تھی جس کے اردگرد ریت تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جانور ( «دابۃ الارض» ) یہاں سے نکلے گا ، میں نے وہ جگہ دیکھی ، وہ ایک بالشت میں سے انگشت شہادت اور انگوٹھے کے درمیان کی دوری کے برابر تھی “ ۔ ابن بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کئی سال کے بعد حج کیا تو بریدہ رضی اللہ عنہ ( یعنی میرے والد ) نے ہمیں «دابۃ الارض» کا عصا دکھایا جو میرے عصا کے بقدر لمبا اور موٹا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´(قرب قیامت) دابۃ الارض (چوپایہ کے نکلنے) کا بیان۔`
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مکہ کے قریب ایک جگہ صحراء میں لے گئے، تو وہ ایک خشک زمین تھی جس کے اردگرد ریت تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جانور («دابۃ الارض» ) یہاں سے نکلے گا، میں نے وہ جگہ دیکھی، وہ ایک بالشت میں سے انگشت شہادت اور انگوٹھے کے درمیان کی دوری کے برابر تھی۔" ابن بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کئی سال کے بعد حج کیا تو بریدہ رضی اللہ عنہ (یعنی میرے والد) نے ہمیں «دابۃ الارض» کا عصا دکھایا جو میرے عصا کے بقدر لمبا اور موٹا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4067]
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مکہ کے قریب ایک جگہ صحراء میں لے گئے، تو وہ ایک خشک زمین تھی جس کے اردگرد ریت تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جانور («دابۃ الارض» ) یہاں سے نکلے گا، میں نے وہ جگہ دیکھی، وہ ایک بالشت میں سے انگشت شہادت اور انگوٹھے کے درمیان کی دوری کے برابر تھی۔" ابن بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کئی سال کے بعد حج کیا تو بریدہ رضی اللہ عنہ (یعنی میرے والد) نے ہمیں «دابۃ الارض» کا عصا دکھایا جو میرے عصا کے بقدر لمبا اور موٹا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4067]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے، تاہم دوسری صحیح حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ دجال شام اور عراق کے درمیان کی سمت ظاہر ہو گا۔ دیکھیے: (حدیث: 4078)
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے، تاہم دوسری صحیح حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ دجال شام اور عراق کے درمیان کی سمت ظاہر ہو گا۔ دیکھیے: (حدیث: 4078)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4067 سے ماخوذ ہے۔