حدیث نمبر: 4040
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ , وَأَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ , قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ , حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ " وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اور قیامت دونوں اس طرح بھیجے گئے ہیں “ ، آپ نے اپنی دونوں انگلیاں ملا کر بتایا ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی امت محمدیہ کے بعد قیامت تک اور کوئی امت حقہ نہ ہو گی اور اسلام ہی کے خاتمہ پر دنیا کا بھی خاتمہ ہے، اس حدیث سے یہ مقصد نہیں ہے کہ مجھ میں اور قیامت میں فاصلہ نہیں ہے جیسا کہ بعضوں نے خیال کیا اور اپنے خیال کی بناء پر یہ اعتراض کیا کہ آپ ﷺ کو وفات کئے ہوئے چودہ سو برس سے زیادہ گزرے لیکن ابھی تک قیامت نہیں ہوئی اور نہ اس کی کوئی بڑی نشانی ظاہر ہوئی۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الفتن / حدیث: 4040
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الرقاق 39 ( 6505 ) ، ( تحفة الأشراف : 12847 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6505

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´قیامت کی نشانیوں کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اور قیامت دونوں اس طرح بھیجے گئے ہیں ، آپ نے اپنی دونوں انگلیاں ملا کر بتایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4040]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نبی ﷺ آخری نبی ہیں۔
اس لیے آپﷺ کے بعد صرف قیامت ہی باقی ہے۔

(2)
یہ حدیث حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کے منافی نہیں کیونکہ حضرت عیسی علیہ السلام رسول اللہﷺ سے پہلے مبعوث ہوئے تھے۔
آسمان سے ان کا نزول اگرچہ بعد میں ہوگا لیکن اس وقت حضرت عیسی علیہ السلام اپنی نبوت محمد (علیہ السلام)
کے مبلغ وداعی ہونگےاور شریعت محمدیہ ہی کو نافذ وغالب فرمائیں گے۔

(3)
مسلمان کو چاہیے کہ روزبروز بڑھتے ہوئےفتنوں کے دور میں اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے زیادہ کوشش کرے اور جاہلیت کے عقائد ورسوم کو رائج کرنے والوں کے خلاف ہر ممکن کوشش کرے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4040 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6505 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6505. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: میں اور قیامت ان دونوں کی طرح بھیجے گئے ہیں۔ آپ کی مراد دو انگلیاں تھیں۔ اسرائیل نے ابو حصین سے روایت کرنے میں ابو بکر کی متابعت کی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6505]
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرب قیامت کو ایک تمثیلی انداز میں بیان فرمایا کہ جس طرح یہ دونوں انگلیاں آپس میں ملی ہوتی ہیں، ان میں کچھ فرق نہیں اسی طرح قیامت کے اور میرے درمیان بھی کچھ فرق نہیں۔
(2)
ان احادیث کا یہ بھی مفہوم ہے کہ مجھ میں اور قیامت میں اب کسی نئے پیغمبر کی ضرورت نہیں اور نہ ان میں کوئی فاصلہ ہی ہے۔
میری امت آخری امت ہے جس پر قیامت قائم ہو گی اگرچہ قیامت کا علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اس کے قریب ہونے کو بیان کیا ہے جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ کی پیش کردہ آیت میں ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6505 سے ماخوذ ہے۔