سنن ابن ماجه
كتاب الفتن— کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : الْعَصَبِيَّةِ باب: عصبیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3949
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ الْيُحْمِدِيُّ , عَنْ عَبَّادِ بْنِ كَثِيرٍ الشَّامِيِّ , عَنْ امْرَأَة مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا : فُسَيْلَةُ , قَالَتْ : سَمِعْتُ أَبِي , يَقُولُ , سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَمِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُحِبَّ الرَّجُلُ قَوْمَهُ , قَالَ : " لَا , وَلَكِنْ مِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُعِينَ الرَّجُلُ قَوْمَهُ عَلَى الظُّلْمِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´فسیلہ نامی ایک عورت کہتی ہے کہ` میں نے اپنے والد کو یہ کہتے سنا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! کیا اپنی قوم سے محبت رکھنا عصبیت ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، بلکہ ظلم پر قوم کی مدد کرنا عصبیت ہے “ ۔