سنن ابن ماجه
كتاب الأدب— کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
بَابُ : مَنْ قَامَ مِنْ مَجْلِسٍ فَرَجَعَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ باب: مجلس سے اٹھ کر جانے والا پھر واپس آ جائے تو وہ اپنی جگہ کا زیادہ حقدار ہے۔
حدیث نمبر: 3717
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ , حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ عَنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ , فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر چلا جائے ، پھر واپس آئے تو وہ اپنی جگہ ( پر بیٹھنے ) کا زیادہ حقدار ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2179 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی اٹھے۔‘‘ ابو عوانہ کی روایت میں ہے ’’جو اپنی مجلس سے اٹھا، پھر اس کی طرف واپس لوٹ آیا تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5689]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، اگر کوئی انسان کسی جگہ بیٹھا ہے، پھر وہ کسی عارضی طبعی یا انسانی ضرورت کے لیے واپسی کی نیت سے اٹھ کر جاتا ہے اور جلد ہی واپس آ جاتا ہے تو وہی اپنی جگہ کا حقدار ہے، وہ اپنی جگہ پر بیٹھنے والے کو اٹھا سکتا ہے، بہتر یہ ہے کہ وہ ایسی صورت میں اپنی جگہ کوئی چیز رکھ کر جائے، تاکہ دوسروں کو پتہ چل جائے کہ اس کی جگہ کوئی بیٹھا ہوا ہے، لیکن یہ درست نہیں ہے، کوئی انسان مغرب کی نماز سے فارغ ہو کر، اپنی جگہ تسبیح یا کپڑا یا مسواک وغیرہ رکھ کر چلا جائے اور پھر عشاء کے وقت آ کر اس جگہ پر بیٹھنے کا تقاضا کرے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2179 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4853 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´دوبارہ مجلس میں آنے والا آدمی اپنی جگہ کا زیادہ مستحق ہے۔`
سہیل بن ابی صالح کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان کے پاس ایک لڑکا تھا، وہ اٹھ کر گیا پھر واپس آیا، تو میرے والد نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ” جب آدمی ایک جگہ سے اٹھ کر جائے پھر وہاں لوٹ کر آئے تو وہی اس (اس جگہ بیٹھنے) کا زیادہ مستحق ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4853]
سہیل بن ابی صالح کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان کے پاس ایک لڑکا تھا، وہ اٹھ کر گیا پھر واپس آیا، تو میرے والد نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ” جب آدمی ایک جگہ سے اٹھ کر جائے پھر وہاں لوٹ کر آئے تو وہی اس (اس جگہ بیٹھنے) کا زیادہ مستحق ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4853]
فوائد ومسائل:
یہ حکم علمی اور خاص حلقات کا معلوم ہوتا ہے، جہاں لوگ اہتمام سے باقاعدہ بیٹھتے ہیں۔
عام اجتماعات میں اگر کوئی جاکر واپس آنا چاہتا ہو تو اسے چاہیئے کہ اپنی جگہ پر کوئی علامت چھوڑ جائے۔
جیسا کہ درج ذیل روایت میں آرہا ہے۔
یہ حکم علمی اور خاص حلقات کا معلوم ہوتا ہے، جہاں لوگ اہتمام سے باقاعدہ بیٹھتے ہیں۔
عام اجتماعات میں اگر کوئی جاکر واپس آنا چاہتا ہو تو اسے چاہیئے کہ اپنی جگہ پر کوئی علامت چھوڑ جائے۔
جیسا کہ درج ذیل روایت میں آرہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4853 سے ماخوذ ہے۔