حدیث نمبر: 3715
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ عَلِيٍّ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ , فَلْيَقُلْ : الْحَمْدُ لِلَّهِ , وَلْيَرُدَّ عَلَيْهِ مَنْ حَوْلَهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ , وَلْيَرُدَّ عَلَيْهِمْ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو «الحمد لله» کہے ، اس کے پاس موجود لوگ «يرحمك الله» کہیں ، پھر چھینکنے والا ان کو جواب دے «يهديكم الله ويصلح بالكم» ” اللہ تمہیں ہدایت دے ، اور تمہاری حالت درست کرے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´چھینک کا جواب۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو «الحمد لله» کہے، اس کے پاس موجود لوگ «يرحمك الله» کہیں، پھر چھینکنے والا ان کو جواب دے «يهديكم الله ويصلح بالكم» " اللہ تمہیں ہدایت دے، اور تمہاری حالت درست کرے۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3715]
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو «الحمد لله» کہے، اس کے پاس موجود لوگ «يرحمك الله» کہیں، پھر چھینکنے والا ان کو جواب دے «يهديكم الله ويصلح بالكم» " اللہ تمہیں ہدایت دے، اور تمہاری حالت درست کرے۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3715]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہےکہ مذکورہ روایت سے بخاری کی روایت (6324)
کفایت کرتی ہے۔
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت ہمارے شیخ کے نزدیک قابل حجت ہے۔
علاوہ ازیں دیگر محققین نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے، لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل ہے۔
بنا بریں اس حدیث سے چھینکنے والے کو دعا دینے کا طریقہ معلوم ہوتا۔
واللہ أعلم۔
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہےکہ مذکورہ روایت سے بخاری کی روایت (6324)
کفایت کرتی ہے۔
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت ہمارے شیخ کے نزدیک قابل حجت ہے۔
علاوہ ازیں دیگر محققین نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے، لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل ہے۔
بنا بریں اس حدیث سے چھینکنے والے کو دعا دینے کا طریقہ معلوم ہوتا۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3715 سے ماخوذ ہے۔