مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 3712
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَتَاكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ , فَأَكْرِمُوهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تمہارے پاس کسی قوم کا کوئی معزز آدمی آئے تو تم اس کا احترام کرو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأدب / حدیث: 3712
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جب کسی قوم کا معزز شخص آئے تو اس کی عزت و تکریم کرو۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے پاس کسی قوم کا کوئی معزز آدمی آئے تو تم اس کا احترام کرو۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3712]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مہمان کا اکرام اس کے مقام و مرتبے کے مطابق ہونا چاہیے۔

(2)
غیر مسلم مہمان سے بھی خندہ پیشانی سے ملنا اور اس کی مناسب خاطر تواضع کرنا ضروری ہے لیکن کوئی ایسا کام نہ کیا جائے جس سے اسلام اور مسلمانوں کے شرف و وقار میں کمی ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3712 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔