حدیث نمبر: 3595
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي الصَّعْبَةِ , عَنْ أَبِي الْأَفْلَحِ الْهَمْدَانِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ , سَمِعْتُهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ , يَقُولُ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرِيرًا بِشِمَالِهِ , وَذَهَبًا بِيَمِينِهِ , ثُمَّ رَفَعَ بِهِمَا يَدَيْهِ , فَقَالَ : " إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي , حِلٌّ لِإِنَاثِهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں ہاتھ میں ریشم اور دائیں ہاتھ میں سونا لیا ، اور دونوں کو ہاتھ میں اٹھائے فرمایا : ” یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ، اور عورتوں کے لیے حلال ہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب اللباس / حدیث: 3595
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «سنن ابی داود/اللباس 14 ( 4057 ) ، سنن النسائی/الزینة 40 ( 5147 ) ، ( تحفة الأشراف : 10183 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/96 ، 115 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4057 | سنن نسائي: 5147 | سنن نسائي: 5148 | سنن نسائي: 5149 | سنن نسائي: 5150 | معجم صغير للطبراني: 612

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´عورتوں کے ریشم اور سونا پہننے کا بیان۔`
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں ہاتھ میں ریشم اور دائیں ہاتھ میں سونا لیا، اور دونوں کو ہاتھ میں اٹھائے فرمایا: یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام، اور عورتوں کے لیے حلال ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3595]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
معمولی زینت تو درست ہے لیکن زیادہ زیورات پہننے سے امارت اور فخر و تکبر کا اظہار ہوتا ہے جس سے غریبوں کا دل دکھتا ہے اس لئے اس سے اجتنا ب بہتر ہے خاص طور پر زیورات پہن کر سفر کرنے سے بہت سے مفاسد سامنے آتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3595 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4057 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´عورتوں کے لیے ریشمی کپڑا کی حلت کا بیان۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم لے کر اسے اپنے داہنے ہاتھ میں رکھا اور سونا لے کر اسے بائیں ہاتھ میں رکھا، پھر فرمایا: یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4057]
فوائد ومسائل:
تاہم بطور علاج ان کا استعمال مباح ہے، جیسے کہ اوپر کی حدیث میں ریشم کا ذکر ہواہے یا عمومی حالات میں چار انگلی کے برابر استعمال کیا جا سکتا ہے اور سونے کا دانت لگوانا بھی جائز ہے یا جیسے کہ روایات میں آتا ہے کہ ایک آدمی کی ناک کٹ گئی تھی تو اسے سونے کی ناک لگوا لینے کی اجازت دی گئی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4057 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5147 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´مردوں کے لیے سونا استعمال کرنے کی حرمت کا بیان۔`
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم لے کر اسے اپنے دائیں ہاتھ میں رکھا، اور سونا لے کر اسے بائیں ہاتھ میں رکھا، پھر فرمایا: یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5147]
اردو حاشہ: گویا عورتوں کے لیے جائزہیں جیسا کہ آئندہ روایات میں صراحتاً ذکر ہے اور مردوں کے لیے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنا جائز نہیں۔ زیب و زینت عورتوں کا خاصہ ہے اور یہ مردانگی کے خلاف ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5147 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5150 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´مردوں کے لیے سونا استعمال کرنے کی حرمت کا بیان۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ میں سونا لیا اور بائیں ہاتھ میں ریشم، پھر فرمایا: یہ میری امت کے مردوں پر حرام ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5150]
اردو حاشہ: اس حدیث میں دائیں بائیں کا فرق کسی راوی کی غلطی ہے کیونکہ حدیث بنیادی طور پر ایک ہی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5150 سے ماخوذ ہے۔