حدیث نمبر: 354
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ غَائِطٍ قَطُّ إِلَّا مَسَّ مَاءً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی نہ دیکھا کہ آپ پاخانہ سے نکلے ہوں اور پانی نہ لیا ہو ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس حدیث معلوم ہوا کہ نبی اکرم ﷺ ہمیشہ پانی سے استنجاء کرتے تھے، کیونکہ پانی سے بھر پور طہارت حاصل ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 354
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, إبراهيم النخعي كان يدلس وعنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 390
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 16000 ، ومصباح الزجاجة : 147 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´پانی سے استنجاء کرنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی نہ دیکھا کہ آپ پاخانہ سے نکلے ہوں اور پانی نہ لیا ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 354]
اردو حاشہ: (1)
اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کا گھر میں معمول پانی سے استنجاء کرنے کا تھا کیونکہ اس سے زیادہ اور بہتر صفائی ہوسکتی ہے۔

(2)
گھر سے باہر رسول اللہ ﷺ عموما ڈھیلوں سے استنجاء کرتے تھے۔
لیکن بعض اوقات پانی باہر بھی لے جاتے تھے۔

(3)
یہ روایت بعض حضرات کے نزدیک صحیح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 354 سے ماخوذ ہے۔