حدیث نمبر: 3531
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ مُبَارَكٍ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , رَأَى رَجُلًا فِي يَدِهِ حَلْقَةٌ مِنْ صُفْرٍ , فَقَالَ : " مَا هَذِهِ الْحَلْقَةُ ؟ " , قَالَ : هَذِهِ مِنَ الْوَاهِنَةِ , قَالَ : " انْزِعْهَا فَإِنَّهَا لَا تَزِيدُكَ إِلَّا وَهْنًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں پیتل کا ایک کڑا ہے ، پوچھا : یہ کیسا کڑا ہے ، اس نے جواب دیا : یہ واہنہ ۱؎ کی بیماری سے بچنے کے لیے ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے اتارو ، اس لیے کہ یہ تمہارے اندر مزید وہن ( کمزوری ) پیدا کر دے گا “ ۲؎ ۔

وضاحت:
۱؎: «واہنہ» : وہ ریاحی درد ہے جو بازو وغیرہ میں ہوتا ہے جس سے کمزوری محسوس ہوتی ہے۔
۲؎: تعویذ گنڈا، جادو منتر اور اسی طرح کا ہر وہ عمل جو کتاب اللہ اور سنت رسول سے ثابت نہ ہو حرام و ناجائز ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطب / حدیث: 3531
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, مبارك بن فضالة مدلس و عنعن, وصرح بسماع الحسن من عمران وھو شاذ،وسنده ضعيف من أجل عنعنة مبارك والحسن البصري, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 504
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10807 ، ومصباح الزجاجة : 1232 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/445 ( ضعیف ) » ( مبارک بن فضالہ اور حسن بصری دونوں مدلس ہیں ، روایت عنعنہ سے کی ہے )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´تعویذ لٹکانے کا بیان۔`
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں پیتل کا ایک کڑا ہے، پوچھا: یہ کیسا کڑا ہے، اس نے جواب دیا: یہ واہنہ ۱؎ کی بیماری سے بچنے کے لیے ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اتارو، اس لیے کہ یہ تمہارے اندر مزید وہن (کمزوری) پیدا کر دے گا ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3531]
اردو حاشہ:
فوائد  ومسائل: واہنہ ایک بیماری ہے۔
جس سے بازو کی ایک رگ میں تکلیف ہوتی ہے۔
اہل عرب اس کے علاج کےلئے ایک خاص قسم کا منکا بازو پر باندھ لیتے تھے ایسے توہمات سے پرہیز کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3531 سے ماخوذ ہے۔