حدیث نمبر: 3444
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ يُونُسَ بْنِ بُكَيْرٍ , عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُكْرِهُوا مَرْضَاكُمْ عَلَى الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ , فَإِنَّ اللَّهَ يُطْعِمُهُمْ وَيَسْقِيهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے مریضوں کو کھانے اور پینے پر مجبور نہ کرو ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں کھلاتا اور پلاتا ہے “ ۔

وضاحت:
۱؎: کھانے پینے کا مقصد یہی ہے کہ روح کا تعلق جسم سے باقی رہے، اور آدمی کو تسلی اور سکون حاصل ہو، چونکہ اللہ تعالیٰ سب کا محافظ اور سب کا رازق ہے، اس لیے وہ بیماروں کی دوسری طرح خبر گیری کرتا ہے کہ ان کو غذا کی ضرورت نہیں پڑتی، بس جب وہ اپنی خوشی سے کھانا چاہیں ان کو کھلاؤ زبردستی مت کرو، اور جو غذا زبردستی سے کھائی جائے، اس سے فائدہ کے بجائے نقصان ہو جاتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطب / حدیث: 3444
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (2040), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 500
تخریج حدیث «سنن الترمذی/الطب 4 ( 2040 ) ، ( تحفة الأشراف : 9943 ، ومصباح الزجاجة : 1195 ) ( حسن ) » ( سند میں بکر بن یونس ضعیف راوی ہیں ، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حسن ہے ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 727 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2040

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مریض کو کھانے پر مجبور نہ کرنے کا بیان۔`
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے مریضوں کو کھانے اور پینے پر مجبور نہ کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں کھلاتا اور پلاتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3444]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکور روایت کو ہمارے محقق نے سندا ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ امام ترمذی اور شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر حسن قراردیا ہے۔
اورانہی کی رائے درست معلوم ہوتی ہے۔
واللہ اعلم۔
تفصیل کےلئے دیکھئے۔ (الصحیحة للألبانی رقم: 727)

(2)
مریض کے لئے صحت مند انسان والی غذا مفید نہیں ہوتی۔
اس لئے انھیں بھاری غذا نہ دی جائے۔

(3)
اگر مریض کی طبیعت کھانے پینے پر آمادہ نہ ہو تو سختی نہ کی جائے۔
کیونکہ زبردستی کھلائی ہوئی غذا فائدے کی بجائے نقصان پہنچاتی ہے۔

(4)
مناسب ترغیب کے ذریعے سےہلکی پھلکی زود ہضم غذا دی جاسکتی ہے۔
تاکہ قوت قائم رہے۔

(5)
اللہ تعالیٰ مریض کو کھلاتا پلاتاہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں تندرست آدمی کی طرح کھانے پینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3444 سے ماخوذ ہے۔