سنن ابن ماجه
كتاب الطهارة وسننها— کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
بَابُ : التَّبَاعُدِ لِلْبَرَازِ فِي الْفَضَاءِ باب: قضائے حاجت کے لیے میدان میں دور جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 335
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا يَأْتِي الْبَرَازَ حَتَّى يَتَغَيَّبَ فَلَا يُرَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے اس وقت تک نہ بیٹھتے جب تک کہ نظروں سے اوجھل نہ ہو جاتے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´قضائے حاجت کے لیے تنہائی کی جگہ جانا`
«. . . أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ الْبَرَازَ، انْطَلَقَ حَتَّى لا يَرَاهُ أَحَدٌ . . .»
”. . . نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کا ارادہ کرتے تو (اتنی دور) جاتے کہ کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ نہ پاتا تھا . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/باب التَّخَلِّي عِنْدَ قَضَاءِ الْحَاجَةِ: 2]
«. . . أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ الْبَرَازَ، انْطَلَقَ حَتَّى لا يَرَاهُ أَحَدٌ . . .»
”. . . نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کا ارادہ کرتے تو (اتنی دور) جاتے کہ کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ نہ پاتا تھا . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/باب التَّخَلِّي عِنْدَ قَضَاءِ الْحَاجَةِ: 2]
فوائد و مسائل
یہ روایت سنن ابي داود حدیث نمبر [2] سنداً ضعیف ہے۔
تاہم پہلی حدیث سنن ابي داود حدیث نمبر [1] صحیح ہے۔
فوائد و مسائل کے لیے سنن ابي داود حدیث نمبر [1] دیکھیں۔
یہ روایت سنن ابي داود حدیث نمبر [2] سنداً ضعیف ہے۔
تاہم پہلی حدیث سنن ابي داود حدیث نمبر [1] صحیح ہے۔
فوائد و مسائل کے لیے سنن ابي داود حدیث نمبر [1] دیکھیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2 سے ماخوذ ہے۔