حدیث نمبر: 3348
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ , حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ , حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ نُوحِ بْنِ ذَكْوَانَ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ : " لَبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّوفَ , وَاحْتَذَى الْمَخْصُوفَ , وَقَالَ : أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشِعًا وَلَبِسَ خَشِنًا " , فَقِيلَ لِلْحَسَنِ : مَا الْبَشِعُ ؟ قَالَ : غَلِيظُ الشَّعِيرِ مَا كَانَ يُسِيغُهُ إِلَّا بِجُرْعَةِ مَاءٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اون کا لباس اور پیوند لگا جوتا پہن لیتے تھے اور فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موٹا کھایا اور موٹا پہنا ۔ حسن بصری سے پوچھا گیا کہ موٹا کھانے سے کیا مراد ہے ؟ جواب دیا : جو کی موٹی روٹی جو پانی کے گھونٹ کے بغیر حلق سے نیچے نہیں اترتی تھی ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأطعمة / حدیث: 3348
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, انظر الحديث الآتي (3556), يوسف بن أبي كثير: مجهول (تقريب: 7877), وقال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف نوح بن ذكوان متفق علي ضعفه ‘‘ ونوح بن ذكوان: ضعيف (تقريب: 7206), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 496
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 542 ، ومصباح الزجاجة : 1155 ) ( ضعیف ) » ( نوح بن ذکوان ضعیف راوی ہیں )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3556

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جو کی روٹی کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اون کا لباس اور پیوند لگا جوتا پہن لیتے تھے اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موٹا کھایا اور موٹا پہنا۔ حسن بصری سے پوچھا گیا کہ موٹا کھانے سے کیا مراد ہے؟ جواب دیا: جو کی موٹی روٹی جو پانی کے گھونٹ کے بغیر حلق سے نیچے نہیں اترتی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3348]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
صحابہ کرام وتابعین کے زمانے میں اون کا لباس سب سے سستا اور ادنیٰ شمار ہوتا تھا۔
سوت کا کپڑا قیمتی اور نفیس سمجھا جاتا تھا۔
اسی طرح گندم کی روٹی وہی لوگ کھاتے تھے جو عیش وعشرت کی زندگی گزارتے تھے۔
عام لوگ جو کی روٹی کھاتے تھے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3348 سے ماخوذ ہے۔