سنن ابن ماجه
كتاب الأطعمة— کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : الاِئْتِدَامِ بِالْخَلِّ باب: سرکہ کو سالن کے طور پر استعمال کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3316
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ , حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سرکہ کیا ہی عمدہ سالن ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2051 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بہترین سالن، سرکہ ہے یا سالنوں میں سے بہترین سالن سرکہ ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5350]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
اِدام: کی جمع ادم ہے، جس طرح كتاب کی جمع كتب ہے۔
اِدام: کی جمع ادم ہے، جس طرح كتاب کی جمع كتب ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2051 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1841 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سرکہ کا بیان۔`
ام ہانی بنت ابوطالب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور فرمایا: ” کیا تمہارے پاس (کھانے کے لیے) کچھ ہے؟ “ میں نے عرض کیا: نہیں، صرف روٹی کے چند خشک ٹکڑے اور سرکہ ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے لاؤ، وہ گھر سالن کا محتاج نہیں ہے جس میں سرکہ ہو۔“ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1841]
ام ہانی بنت ابوطالب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور فرمایا: ” کیا تمہارے پاس (کھانے کے لیے) کچھ ہے؟ “ میں نے عرض کیا: نہیں، صرف روٹی کے چند خشک ٹکڑے اور سرکہ ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے لاؤ، وہ گھر سالن کا محتاج نہیں ہے جس میں سرکہ ہو۔“ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1841]
اردو حاشہ:
(سند میں ابوحمزہ، ثابت بن ابی صفیہ ضعیف راوی ہیں، لیکن مسند احمد (3/353)میں جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، الصحیحۃ: 2220)
(سند میں ابوحمزہ، ثابت بن ابی صفیہ ضعیف راوی ہیں، لیکن مسند احمد (3/353)میں جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، الصحیحۃ: 2220)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1841 سے ماخوذ ہے۔