حدیث نمبر: 3307
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بِلَحْمٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ ، فَنَهَسَ مِنْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دن گوشت آیا ، تو آپ کو دست کا گوشت پیش کیا گیا ، اس لیے کہ وہ آپ کو بہت پسند تھا تو آپ نے اس میں سے دانت سے نوچ کر کھایا ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأطعمة / حدیث: 3307
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/تفسیر القرآن سورة 17 ( 4712 ) ، صحیح مسلم/الإیمان 84 ( 194 ) ، سنن الترمذی/الأطعمة 34 ( 1837 ) ، القیامة 10 ( 2434 ) ، ( تحفة الأشراف : 14927 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/331 ، 435 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1837

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جانور کا کس جگہ کا گوشت سب سے عمدہ اور لذیذ ہوتا ہے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دن گوشت آیا، تو آپ کو دست کا گوشت پیش کیا گیا، اس لیے کہ وہ آپ کو بہت پسند تھا تو آپ نے اس میں سے دانت سے نوچ کر کھایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3307]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  ذراع (دستی)
سےمراد بکرے کی اگلی ٹانگوں کا گھٹنے سے پائے تک کا حصہ ہے۔
علامہ وحیدالزمان نے اس کی خوب اچھی تعبیر کی ہے یعنی گوڈی کا گوشت۔

(2)
گوشت کو چھری سے کاٹ کر کھانے کے بجائے دانتوں سے نوچ کر کھانا زیادہ مفید ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3307 سے ماخوذ ہے۔