حدیث نمبر: 3248
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " مَنْ يَأْكُلُ الْغُرَابَ ، وَقَدْ سَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسِقًا ، وَاللَّهِ مَا هُوَ مِنَ الطَّيِّبَاتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` کوّا کون کھائے گا ؟ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فاسق کہا ، اللہ کی قسم وہ پاک چیزوں میں سے نہیں ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی طیبات میں سے جو حلال ہے بلکہ یہ خبائث میں سے ہے اس سے کوے کی حرمت ثابت ہوئی۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيد / حدیث: 3248
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 7326 ، ومصباح الزجاجة : 1115 ) ( صحیح ) » ( شریک القاضی سئی الحفظ ہیں ، لیکن دوسرے طریق سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے ، سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 1825 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´کوے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ کوّا کون کھائے گا؟ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فاسق کہا، اللہ کی قسم وہ پاک چیزوں میں سے نہیں ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3248]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حدیث میں مندرجہ ذیل اشیاء کو فاسق کہا گیا ہے: سانپ، بچھو، چوہا، چیل اور کاٹنے والا کتا۔ (صحيح مسلم، باب مايندب للمحرم وغيره قتله من الدواب فى الحل والحرم، حديث: 1198)

(2)
کوے سےمراد وہ کوا ہے جس کی پیٹھ اور پیٹ میں سفید رنگ ہو۔
اسے حدیث میں الغراب الابقع کہا گیا ہے۔ (صحیح مسلم حوالہ مذکورہ بالا)

(3)
جن چیزوں کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہ حرام ہیں کیونکہ اگر وہ حلال ہوتیں توانہیں ذبح کیا جاتا قتل نہ کیا جاتا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3248 سے ماخوذ ہے۔