سنن ابن ماجه
كتاب المناسك— کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
بَابُ : فَرْضِ الْحَجِّ باب: حج کی فرضیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2886
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ ، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْحَجُّ فِي كُلِّ سَنَةٍ أَوْ مَرَّةً وَاحِدَةً ؟ ، قَالَ : " بَلْ مَرَّةً وَاحِدَةً فَمَنِ اسْتَطَاعَ فَتَطَوَّعَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور کہا : اللہ کے رسول ! کیا حج ہر سال فرض ہے ، یا صرف ایک بار ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، صرف ایک مرتبہ فرض ہے ، البتہ جو ( مزید کی ) استطاعت رکھتا ہو تو وہ اسے بطور نفل کرے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2621 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´حج کی فرضیت کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ” بیشک اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے “، تو اقرع بن حابس تمیمی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ہر سال؟ اللہ کے رسول! آپ خاموش رہے، پھر آپ نے بعد میں فرمایا: ” اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال (حج) فرض ہو جاتا، پھر نہ تم سنتے اور نہ اطاعت کرتے، لیکن حج ایک بار ہی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2621]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ” بیشک اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے “، تو اقرع بن حابس تمیمی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ہر سال؟ اللہ کے رسول! آپ خاموش رہے، پھر آپ نے بعد میں فرمایا: ” اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال (حج) فرض ہو جاتا، پھر نہ تم سنتے اور نہ اطاعت کرتے، لیکن حج ایک بار ہی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2621]
اردو حاشہ: ”نہ سنتے اور نہ اطاعت کرتے۔“ یعنی اس پر عمل کرنا تمھاری طاقت میں نہ ہوتا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2621 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 589 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´حج کی فضیلت و فرضیت کا بیان`
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” بیشک اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے۔ “ اس پر اقرع بن حابس کھڑے ہوئے اور انہوں نے عرض کیا ” کیا ہر سال، اے اللہ کے رسول!؟ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اگر میں ہاں کہ دیتا تو یہ (ہر سال کے لیے) فرض ہو جاتا۔ حج ایک بار ہے اور اس سے جو زائد ہے وہ نفل ہے۔ “ اسے ترمذی کے علاوہ پانچوں نے روایت کیا ہے اور اس کی اصل مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 589]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” بیشک اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے۔ “ اس پر اقرع بن حابس کھڑے ہوئے اور انہوں نے عرض کیا ” کیا ہر سال، اے اللہ کے رسول!؟ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اگر میں ہاں کہ دیتا تو یہ (ہر سال کے لیے) فرض ہو جاتا۔ حج ایک بار ہے اور اس سے جو زائد ہے وہ نفل ہے۔ “ اسے ترمذی کے علاوہ پانچوں نے روایت کیا ہے اور اس کی اصل مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 589]
589 فوائد و مسائل:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ حج عمر بھر میں صرف ایک بار فرض ہے، اس سے زائد نفل ہے۔
➋ اس روایت میں جو یہ مذکور ہے کہ اگر میں ہر سال حج فرض ہونے کا کہہ دیتا تو ہر سال حج فرض ہو جاتا، اس سے بعض علماء کا خیال ہے کہ احکام شرعیہ کا تقرر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی مرضی سے کر سکتے تھے لیکن اکثر علماء اس قول کو درست نہیں سمجھتے اور یہی موقف درست ہے۔
➌ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تشریعی حکم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی رضا پر ہی موقوف ہوتا تھا۔ اس اصولی اختلاف کی تفصیل اصول و عقائد کی کتابوں میں موجود ہے جس کا یہاں ذکر کرنا غیر ضروری ہے۔
وضاحت:
حضرت اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ، یہ قبیلہ تمیم سے تعلق رکھتے تھے۔ فتح مکہ کے بعد بنوتمیم کا جو وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا، اس میں شامل تھے۔ مؤلفۃ القلوب میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ جاہلیت اور اسلام میں اپنے قبیلے کے سردار تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ان کا انتقال ہوا۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ حج عمر بھر میں صرف ایک بار فرض ہے، اس سے زائد نفل ہے۔
➋ اس روایت میں جو یہ مذکور ہے کہ اگر میں ہر سال حج فرض ہونے کا کہہ دیتا تو ہر سال حج فرض ہو جاتا، اس سے بعض علماء کا خیال ہے کہ احکام شرعیہ کا تقرر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی مرضی سے کر سکتے تھے لیکن اکثر علماء اس قول کو درست نہیں سمجھتے اور یہی موقف درست ہے۔
➌ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تشریعی حکم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی رضا پر ہی موقوف ہوتا تھا۔ اس اصولی اختلاف کی تفصیل اصول و عقائد کی کتابوں میں موجود ہے جس کا یہاں ذکر کرنا غیر ضروری ہے۔
وضاحت:
حضرت اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ، یہ قبیلہ تمیم سے تعلق رکھتے تھے۔ فتح مکہ کے بعد بنوتمیم کا جو وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا، اس میں شامل تھے۔ مؤلفۃ القلوب میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ جاہلیت اور اسلام میں اپنے قبیلے کے سردار تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ان کا انتقال ہوا۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 589 سے ماخوذ ہے۔