حدیث نمبر: 2884
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ وَرْدَانَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا سورة آل عمران آية 97 ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْحَجُّ فِي كُلِّ عَامٍ ؟ ، فَسَكَتَ ، ثُمَّ قَالُوا : أَفِي كُلِّ عَامٍ ؟ ، فَقَالَ : " لَا ، وَلَوْ قُلْتُ : نَعَمْ ، لَوَجَبَتْ ، فَنَزَلَتْ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101 " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب آیت کریمہ : «ولله على الناس حج البيت من استطاع إليه سبيلا» ” اللہ کے لیے ان لوگوں پر بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے ، جو وہاں تک پہنچنے کی قدرت رکھتے ہوں “ ( سورۃ آل عمران : ۹۷ ) نازل ہوئی تو لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا حج ہر سال فرض ہے ۱؎ ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، لوگوں نے پھر سوال کیا : کیا ہر سال حج فرض ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، اور اگر میں ، ہاں ، کہہ دیتا تو ( ہر سال ) واجب ہو جاتا “ ، اس پر آیت کریمہ : «يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم» ” اے ایمان والو ! تم ان چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو اگر وہ تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہارے لیے بار خاطر ہوں گی “ ( سورۃ المائدہ : ۱۰۱ ) نازل ہوئی ۲؎ ۔

وضاحت:
۱؎: حج اسلام کا پانچواں بنیادی رکن ہے جو ۵ ھ یا ۶ ھ میں فرض ہوا، بعض لوگوں کے نزدیک ۹ ھ یا ۱۰ ھ میں فرض ہوا ہے زادالمعاد میں حافظ ابن القیم کا رجحان اسی طرف ہے۔
۲؎: بلا ضرورت سوال کرنا منع ہے، کیونکہ سوال سے ہر چیز کھول کر بیان کی جاتی ہے اور جو سوال نہ ہو تو مجمل رہتی ہے اور مجمل میں بڑی گنجائش رہتی ہے، اسی حج کی آیت میں دیکھیں کہ اس میں تفصیل نہیں تھی کہ ہر سال حج فرض ہے یا زندگی میں ایک بار، پس اگر زندگی میں ایک بار بھی حج کر لیا تو آیت پر عمل ہو گیا، اور یہ کافی تھا پوچھنے کی حاجت نہ تھی، لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا، اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہاں فرما دیتے تو ہر سال حج فرض ہو جاتا اور امت کو بڑی تکلیف ہوتی خصوصاً دور دراز ملک والوں کو وہ ہر سال حج کے لیے کیونکر جا سکتے ہیں، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت پر رحم فرمایا، اور خاموش رہے جب انہوں نے پھر سوال کیا تو انکار میں جواب دیا یعنی ہر سال فرض نہیں، اور آئندہ کے لیے ان کو بلاضرورت سوال کرنے سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب المناسك / حدیث: 2884
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (814), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 482
تخریج حدیث «سنن الترمذی/الحج 5 ( 814 ) ، ( تحفة الأشراف : 10111 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/113 ) ( ضعیف ) » ( سند میں عبدالاعلی ضعیف راوی ہیں ، لیکن متن حدیث نزول آیت کے علاوہ صحیح و ثابت ہے ، ملاحظہ ہو : آگے حدیث نمبر 2885 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 814 | سنن ترمذي: 3055

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´حج کی فرضیت کا بیان۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ: «ولله على الناس حج البيت من استطاع إليه سبيلا» اللہ کے لیے ان لوگوں پر بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے، جو وہاں تک پہنچنے کی قدرت رکھتے ہوں (سورۃ آل عمران: ۹۷) نازل ہوئی تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال فرض ہے ۱؎؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، لوگوں نے پھر سوال کیا: کیا ہر سال حج فرض ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اور اگر میں، ہاں، کہہ دیتا تو (ہر سال) واجب ہو جاتا ، اس پر آیت کریمہ: «يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم» اے ایمان والو! تم ان چیزو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2884]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حج صرف اس شخص پر فرض ہے جو طاقت رکھتا ہو۔
یعنی گھر سے روانہ ہونے سے لیکر واپسی تک کے اخراجات برداشت کر سکتا ہو۔
اس میں کھانے پینے کے اخراجات بھی شامل ہیں اور سواری کا خرچ یعنی کرایہ وغیرہ بھی۔

(2)
نبی اکرمﷺ اپنی مرضی سے کسی کام کو فرض یا حرام قرار نہیں دیتے تھے تاہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا سوال کرنا ان کے شوق عبادت کو ظاہر کرتا ہے۔
ممکن ہے اللہ تعالی کو صحابہ کی کسی نیکی سے محبت اور اس کا شوق اس قدر پسند آجائے کہ اس کا حکم نازل ہوجائے اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو زیادہ سوالات سے منع فرما دیا گیا تھا تاکہ کوئی ایسا حکم نازل نہ ہو جائے جو بعد والوں کے لیے مشقت کا باعث ہو۔

(3)
اسلامی شریعت کے احکام آسان اور قابل عمل ہیں لہٰذا ان کی ادائیگی میں کوتاہی کرنا محرومی کا باعث ہے۔

(4)
حج زندگی میں ایک ہی بار ادا کرنا فرض ہے۔
دوسرا حج نفل ہوگا۔
لیکن اگر کسی نے بالغ ہونے سے پہلے یا غلامی کی حالت میں حج کیا ہے تو اس کا یہ حج نفل ہوگا۔
بالغ ہونے کے بعد یا آزادی ملنے پر اگر استطاعت ہوتو دوبارہ حج ادا کرنا فرض ہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2884 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 814 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´کتنی بار حج فرض ہے؟`
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ حکم نازل ہوا کہ اللہ کے لیے لوگوں پر خانہ کعبہ کا حج فرض ہے جو اس تک پہنچنے کی طاقت رکھیں ، تو لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال (فرض ہے)؟ آپ خاموش رہے۔ لوگوں نے پھر پوچھا: اللہ کے رسول! کیا ہر سال؟ آپ نے فرمایا: نہیں ، اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو (ہر سال) واجب ہو جاتا اور پھر اللہ نے یہ حکم نازل فرمایا: اے ایمان والو! ایسی چیزوں کے بارے میں مت پوچھا کرو کہ اگر وہ تمہارے لیے ظاہر کر دی جائیں تو تم پر شاق گزریں۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 814]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ابو البختری کی علی رضی اللہ عنہ سے معاصرت و سماع نہیں ہے، اس لیے سند منقطع ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 814 سے ماخوذ ہے۔