سنن ابن ماجه
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے فضائل و احکام
بَابُ : الْغَارَةِ وَالْبَيَاتِ وَقَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ باب: دشمن پر حملہ کرنے، شبخون (رات میں چھاپہ) مارنے، ان کی عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کے احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 2839
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ ، قَالَ : " سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَهْلِ الدَّارِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُبَيَّتُونَ ، فَيُصَابُ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ ، قَالَ : هُمْ مِنْهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ مشرکین کی آبادی پر شبخون مارتے ( رات میں حملہ کرتے ) وقت عورتیں اور بچے بھی قتل ہو جائیں گے ، تو اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ بھی انہیں میں سے ہیں “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ آمادئہ جنگ اور دشمنی پر اصرار کرنے والے اور اسلام کے خلاف ایڑی چوٹی کا زور لگانے والوں پر رات کے حملہ کا مسئلہ ہے، جن تک اسلام کی دعوت سالہا سال تک اچھی طرح سے پہنچانے کا انتظام کیا گیا، اب آخری حربہ کے طور پر ان کے قلع قمع کا ہر دروازہ کھلا ہوا ہے، اور ان کے ساتھ رہنے والی آبادی میں موجود بچوں اور عورتوں کو اگر کوئی تکلیف پہنچتی ہے، تو یہ بدرجہ مجبوری ہے اس لئے کوئی حرج نہیں ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´دشمن پر حملہ کرنے، شبخون (رات میں چھاپہ) مارنے، ان کی عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کے احکام کا بیان۔`
صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ مشرکین کی آبادی پر شبخون مارتے (رات میں حملہ کرتے) وقت عورتیں اور بچے بھی قتل ہو جائیں گے، تو اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ بھی انہیں میں سے ہیں “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2839]
صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ مشرکین کی آبادی پر شبخون مارتے (رات میں حملہ کرتے) وقت عورتیں اور بچے بھی قتل ہو جائیں گے، تو اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ بھی انہیں میں سے ہیں “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2839]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جو بچے یا عورتیں جنگ میں شریک نہ ہوں ان پر حملہ کرنا یا انھیں قتل کرنا جائز نہیں، (دیکھیے: حدیث: 2841)
(2)
دشمن کی فوج پر حملہ کرتے وقت اگر کوئی عورت یا بچہ زد میں آ جائے تو وہ معاف ہے۔
(3)
رات کو حملہ کرنا (شب خون مارنا)
جائز ہے تاکہ دشمن کو اچھی طرح دفاع کرنے کا موقع نہ ملے اور اسے شکست ہوجائے۔
(4)
وہ انھی میں سے ہیں یعنی وہ مشرک بھی ہیں اس لیے اگر نادانستہ طور پر وہ قتل ہوجائیں تو گناہ نہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
جو بچے یا عورتیں جنگ میں شریک نہ ہوں ان پر حملہ کرنا یا انھیں قتل کرنا جائز نہیں، (دیکھیے: حدیث: 2841)
(2)
دشمن کی فوج پر حملہ کرتے وقت اگر کوئی عورت یا بچہ زد میں آ جائے تو وہ معاف ہے۔
(3)
رات کو حملہ کرنا (شب خون مارنا)
جائز ہے تاکہ دشمن کو اچھی طرح دفاع کرنے کا موقع نہ ملے اور اسے شکست ہوجائے۔
(4)
وہ انھی میں سے ہیں یعنی وہ مشرک بھی ہیں اس لیے اگر نادانستہ طور پر وہ قتل ہوجائیں تو گناہ نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2839 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1745 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کے عورتوں اور بچوں کے بارے میں سوال کیا گیا کہ ان پر شب خون مارا جا سکتا ہے اور اس میں مسلمان ان کی عورتوں اور بچوں کو قتل کر دیتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ انہیں میں سے ہیں۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4549]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
ذُرَارِي: یہ ذُرِّية کی جمع ہے، جس کا معنی ہے، نسل انسانی مذکر ہو یا مؤنث۔
يُبَيِّتُون: ان پررات کو اچانک حملہ کیا جاتا ہے، شب خون مارا جاتا ہے۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر جنگ کرنے والوں اور جنگ میں حصہ نہ لینے والوں کے درمیان، امتیاز نہ ہو سکے اور ان کو الگ الگ کرنا ممکن نہ ہو جس طرح شب خوب مارتے وقت ہوتا ہے تو پھر بلا قصد اور بلا ارادہ اگر ان کو قتل کر دیا جائے، جان بوجھ کر ان کو نشانہ نہ بنایا جائے تو پھر عورتوں اور بچوں کے قتل میں کوئی حرج نہیں ہے اور دنیاوی معاملات میں مشرکوں کے بچوں کا حکم بھی جب تک وہ اپنے والدین کے ساتھ ہیں، انہیں والا ہے، اگر مشرکین کسی قلعہ میں بند ہوں اور ان کے ساتھ ان کے بچے ہوں یا مسلمان قیدی ہوں تو اس صورت میں جمہور فقہاء کا یہ قول ہے، اگر اس کے بغیر قلعہ ختم کرنا ممکن نہ ہو تو ان کے قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن امام مالک اور اوزاعی کے نزدیک ایسی صورت میں تیر اندازی کرنا مجنیق (یا آج کل کا جدید اسلحہ)
سے قلعہ پر پتھر پھینکنا درست نہیں ہے، کیونکہ اس سے مسلمان بھی نشانہ بنیں گے، حتی الوسع مسلمان قیدیوں کو بچانے کی کوشش کی جائے، اگر اس کے بغیر قلعہ فتح کرنا ممکن نہ ہو تو مجبوری کی صورت میں غیر ارادی اور غیر شعوری طور پر اگر وہ نشانہ بن جائیں تو اس کی گنجائش ہے۔
ذُرَارِي: یہ ذُرِّية کی جمع ہے، جس کا معنی ہے، نسل انسانی مذکر ہو یا مؤنث۔
يُبَيِّتُون: ان پررات کو اچانک حملہ کیا جاتا ہے، شب خون مارا جاتا ہے۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر جنگ کرنے والوں اور جنگ میں حصہ نہ لینے والوں کے درمیان، امتیاز نہ ہو سکے اور ان کو الگ الگ کرنا ممکن نہ ہو جس طرح شب خوب مارتے وقت ہوتا ہے تو پھر بلا قصد اور بلا ارادہ اگر ان کو قتل کر دیا جائے، جان بوجھ کر ان کو نشانہ نہ بنایا جائے تو پھر عورتوں اور بچوں کے قتل میں کوئی حرج نہیں ہے اور دنیاوی معاملات میں مشرکوں کے بچوں کا حکم بھی جب تک وہ اپنے والدین کے ساتھ ہیں، انہیں والا ہے، اگر مشرکین کسی قلعہ میں بند ہوں اور ان کے ساتھ ان کے بچے ہوں یا مسلمان قیدی ہوں تو اس صورت میں جمہور فقہاء کا یہ قول ہے، اگر اس کے بغیر قلعہ ختم کرنا ممکن نہ ہو تو ان کے قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن امام مالک اور اوزاعی کے نزدیک ایسی صورت میں تیر اندازی کرنا مجنیق (یا آج کل کا جدید اسلحہ)
سے قلعہ پر پتھر پھینکنا درست نہیں ہے، کیونکہ اس سے مسلمان بھی نشانہ بنیں گے، حتی الوسع مسلمان قیدیوں کو بچانے کی کوشش کی جائے، اگر اس کے بغیر قلعہ فتح کرنا ممکن نہ ہو تو مجبوری کی صورت میں غیر ارادی اور غیر شعوری طور پر اگر وہ نشانہ بن جائیں تو اس کی گنجائش ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1745 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1570 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´عورتوں اور بچوں کے قتل کی ممانعت کا بیان۔`
صعب بن جثامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے گھوڑوں نے مشرکین کی عورتوں اور بچوں کو روند ڈالا ہے، آپ نے فرمایا: ” وہ بھی اپنے آبا و اجداد کی قسم سے ہیں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1570]
صعب بن جثامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے گھوڑوں نے مشرکین کی عورتوں اور بچوں کو روند ڈالا ہے، آپ نے فرمایا: ” وہ بھی اپنے آبا و اجداد کی قسم سے ہیں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1570]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی اس حالت میں یہ سب اپنے بڑوں کے حکم میں تھے اور یہ مراد نہیں ہے کہ قصداً ان کا قتل کرنا مباح تھا، بلکہ مراد یہ ہے کہ ان کی عورتوں اور بچوں کو پامال کئے بغیر ان کے بڑوں تک پہنچنا ممکن نہیں تھا۔
بڑوں کے ساتھ مخلوط ہونے کی وجہ سے یہ سب مقتول ہوئے، ایسی صورت میں ان کا قتل جائز ہوگا۔
وضاحت:
1؎:
یعنی اس حالت میں یہ سب اپنے بڑوں کے حکم میں تھے اور یہ مراد نہیں ہے کہ قصداً ان کا قتل کرنا مباح تھا، بلکہ مراد یہ ہے کہ ان کی عورتوں اور بچوں کو پامال کئے بغیر ان کے بڑوں تک پہنچنا ممکن نہیں تھا۔
بڑوں کے ساتھ مخلوط ہونے کی وجہ سے یہ سب مقتول ہوئے، ایسی صورت میں ان کا قتل جائز ہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1570 سے ماخوذ ہے۔