حدیث نمبر: 2762
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِيُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ لَمْ يَغْزُ أَوْ يُجَهِّزْ غَازِيًا أَوْ يَخْلُفْ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ أَصَابَهُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ بِقَارِعَةٍ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص نہ غزوہ کرے ، نہ کسی غازی کے لیے سامان جہاد کا انتظام کرے ، اور نہ ہی کسی غازی کی غیر موجودگی میں اس کے گھربار کی بھلائی کے ساتھ نگہبانی کرے ، تو اللہ تعالیٰ قیامت آنے سے قبل اسے کسی مصیبت میں مبتلا کر دے گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجهاد / حدیث: 2762
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الجہاد 18 ( 2503 ) ، ( تحفة الأشراف : 4897 ) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الجہاد 26 ( 2462 ) ( حسن ) » ( تراجع الألبانی : رقم : 380 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2503

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جہاد چھوڑ دینے پر وارد وعید کا بیان۔`
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نہ غزوہ کرے، نہ کسی غازی کے لیے سامان جہاد کا انتظام کرے، اور نہ ہی کسی غازی کی غیر موجودگی میں اس کے گھربار کی بھلائی کے ساتھ نگہبانی کرے، تو اللہ تعالیٰ قیامت آنے سے قبل اسے کسی مصیبت میں مبتلا کر دے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2762]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ذاتی طور پر جنگ میں حصہ لینے کے علاوہ مجاہد کی مالی امداد یا مجاہد کے اہل خانہ کی خدمت اور خبر گیری بھی جہاد میں شرکت کے برابرہے۔

(2)
اگر کوئی شخص جنگ میں شریک نہیں ہو سکتا تو اسے دوسرے دو کاموں میں ضرور شریک ہونا چاہیے ورنہ وہ ترک جہاد کا مجرم سمجھا جائے گا۔

(3)
بعض گناہوں کی سزا دنیا میں ہی مل جاتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2762 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2503 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جہاد نہ کرنے کی مذمت کا بیان۔`
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جہاد نہیں کیا یا کسی جہاد کرنے والے کے لیے سامان جہاد فراہم نہیں کیا یا کسی مجاہد کے اہل و عیال کی بھلائی کے ساتھ خبرگیری نہ کی تو اللہ اسے کسی سخت مصیبت سے دو چار کرے گا ، یزید بن عبداللہ کی روایت میں «قبل يوم القيامة» قیامت سے پہلے کا اضافہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2503]
فوائد ومسائل:
امت مسلمہ کو جس ہزیمت کا سامنا ہے۔
بلاشبہ وہ جہاد سے روگردانی اور کفارکے مقابلے میں بزدلی کا نتیجہ ہے۔
اوراللہ عزوجل کی جانب سے قسم قسم کی آفات بھی اس کے مواخذے کی دلیل ہیں۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2503 سے ماخوذ ہے۔