سنن ابن ماجه
كتاب العتق— کتاب: غلام کی آ زادی کے احکام و مسائل
بَابُ : مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ باب: جو شخص غلام آزاد کر دے اور اس کے پاس مال ہو تو مال کا حقدار کون ہو گا؟
حدیث نمبر: 2530
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ جَدِّهِ عُمَيْرٍ وَهُوَ مَوْلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، قَالَ لَهُ : يَا عُمَيْرُ إِنِّي أُعِتِقُكَ عِتْقًا هَنِيئًا ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ :" أَيُّمَا رَجُلٍ أَعْتَقَ غُلَامًا وَلَمْ يُسَمِّ مَالَهُ فَالْمَالُ لَهُ " فَأَخْبِرْنِي مَا مَالُكَ ؟
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمیر مولی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا : عمیر ! میں نے تمہیں خوشی خوشی آزاد کر دیا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جو شخص ایک غلام آزاد کرے اور اس کے مال کا تذکرہ نہ کرے ، تو وہ مال غلام کا ہو گا “ ، مجھے بتاؤ تمہارے پاس کیا مال ہے ؟ ۔