حدیث نمبر: 2530
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ جَدِّهِ عُمَيْرٍ وَهُوَ مَوْلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، قَالَ لَهُ : يَا عُمَيْرُ إِنِّي أُعِتِقُكَ عِتْقًا هَنِيئًا ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ :" أَيُّمَا رَجُلٍ أَعْتَقَ غُلَامًا وَلَمْ يُسَمِّ مَالَهُ فَالْمَالُ لَهُ " فَأَخْبِرْنِي مَا مَالُكَ ؟
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمیر مولی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا : عمیر ! میں نے تمہیں خوشی خوشی آزاد کر دیا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جو شخص ایک غلام آزاد کرے اور اس کے مال کا تذکرہ نہ کرے ، تو وہ مال غلام کا ہو گا “ ، مجھے بتاؤ تمہارے پاس کیا مال ہے ؟ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب العتق / حدیث: 2530
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, إسحاق بن إبراهيم بن عمران بن عمير: ذكره ابن الجارود في الضعفاء ووثقه ابن وحده (تقريب: 329), وجده عمير مولي ابن مسعود: مجهول (تقريب: 5192), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 470
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 9493 ، ومصباح الزجاجة : 896 ) ( ضعیف ) » ( سند میں اسحاق بن ابراہیم المسعودی مجہول راوی ہیں ، امام بخاری کہتے کہ حدیث کو مرفوع روایت کرنے میں ان کی متابعت نہیں کی جائے گی ، نیز ملاحظہ ہو : الإرواء : 1748 )