حدیث نمبر: 2443
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَطِيَّةَ السَّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْطُوا الْأَجِيرَ أَجْرَهُ قَبْلَ أَنْ يَجِفَّ عَرَقُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مزدور کو اس کا پسینہ سوکھنے سے پہلے اس کی مزدوری دے دو “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ کام ختم ہوتے ہی اس کی اجرت دے دو، یہ نہیں کہ اجرت دینے میں حیلہ کرو اور کام لے لو۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الرهون / حدیث: 2443
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 6736 ، ومصباح الزجاجة : 860 ) ( صحیح ) » ( سند میں عبد الرحمن بن زید ضعیف راوی ہیں ، اور وہب بن سعید یہ عبد الوہاب بن سعید صدوق ہیں ، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : بلوغ المرام: 774 | معجم صغير للطبراني: 515

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مزدور کی اجرت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مزدور کو اس کا پسینہ سوکھنے سے پہلے اس کی مزدوری دے دو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2443]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مزدور کو مزدوری کام ختم ہونے کےفوراً بعد ادا کر دینی چاہیے۔

(2)
کسی جائز وجہ کے بغیر ٹال مٹول کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2443 سے ماخوذ ہے۔