سنن ابن ماجه
كتاب التجارات— کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
بَابُ : السَّلَمِ فِي الْحَيَوَانِ باب: حیوانات میں بیع سلم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2286
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَاب ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ هَانِئٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ ، يَقُولُ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ : اقْضِنِي بَكْرِي ، فَأَعْطَاهُ بَعِيرًا مُسِنًّا ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا أَسَنُّ مِنْ بَعِيرِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ النَّاسِ خَيْرُهُمْ قَضَاءً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ ایک اعرابی نے آ کر عرض کیا : میرا جوان اونٹ مجھے دیجئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ایک اونٹ دیا جو اس سے بڑا تھا ، اعرابی ( دیہاتی ) بولا : اللہ کے رسول ! اس کی عمر تو اس سے زیادہ ہے ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بہتر لوگ وہ ہیں جو اپنے قرض کی ادائیگی میں بہتر ہوں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4623 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جانور میں بیع سلم یا ادھار معاملہ کرنے کا بیان۔`
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک جوان اونٹ بیچا تو میں آپ کے پاس اس کا تقاضا کرنے آیا، آپ نے فرمایا: ” میں تو تمہیں بختی (عمدہ قسم کا اونٹ) دوں گا “، پھر آپ نے مجھے ادا کیا تو بہت اچھا ادا کیا، اور آپ کے پاس ایک اعرابی (دیہاتی) اپنا جوان اونٹ مانگتے ہوئے آیا تو آپ نے فرمایا: ” اسے جوان اونٹ دے دو “، تو اس دن ان لوگوں نے اسے ایک بڑا (مکمل) اونٹ دیا، اس نے کہا: یہ تو میرے اونٹ سے بہ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4623]
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک جوان اونٹ بیچا تو میں آپ کے پاس اس کا تقاضا کرنے آیا، آپ نے فرمایا: ” میں تو تمہیں بختی (عمدہ قسم کا اونٹ) دوں گا “، پھر آپ نے مجھے ادا کیا تو بہت اچھا ادا کیا، اور آپ کے پاس ایک اعرابی (دیہاتی) اپنا جوان اونٹ مانگتے ہوئے آیا تو آپ نے فرمایا: ” اسے جوان اونٹ دے دو “، تو اس دن ان لوگوں نے اسے ایک بڑا (مکمل) اونٹ دیا، اس نے کہا: یہ تو میرے اونٹ سے بہ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4623]
اردو حاشہ: ”بختی“ یہ ایک اچھی قسم کے اونٹ ہوتے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ تجھے تیرے اونٹ سے بہتر اور عمدہ اونٹنی دوں گا۔ اونٹنی کے لحاظ سے مذکر اونٹ کے برابر ہو تب بھی قیمتی شمار ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4623 سے ماخوذ ہے۔