سنن نسائي
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
بَابُ : اسْتِسْلاَفِ الْحَيَوَانِ وَاسْتِقْرَاضِه باب: جانور میں بیع سلم یا ادھار معاملہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4623
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ , قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ هَانِئٍ , يَقُولُ : سَمِعْتُ عِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ , يَقُولُ : " بِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ , فَقَالَ : " أَجَلْ لَا أَقْضِيكَهَا إِلَّا نَجِيبَةً " , فَقَضَانِي فَأَحْسَنَ قَضَائِي , وَجَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ يَتَقَاضَاهُ سِنَّهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْطُوهُ سِنًّا " , فَأَعْطَوْهُ يَوْمَئِذٍ جَمَلًا , فَقَالَ : " هَذَا خَيْرٌ مِنْ سِنِّي " , فَقَالَ : " خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ قَضَاءً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک جوان اونٹ بیچا تو میں آپ کے پاس اس کا تقاضا کرنے آیا ، آپ نے فرمایا : ” میں تو تمہیں بختی ( عمدہ قسم کا اونٹ ) دوں گا “ ، پھر آپ نے مجھے ادا کیا تو بہت اچھا ادا کیا ، اور آپ کے پاس ایک اعرابی ( دیہاتی ) اپنا جوان اونٹ مانگتے ہوئے آیا تو آپ نے فرمایا : ” اسے جوان اونٹ دے دو “ ، تو اس دن ان لوگوں نے اسے ایک بڑا ( مکمل ) اونٹ دیا ، اس نے کہا : یہ تو میرے اونٹ سے بہتر ہے ، آپ نے فرمایا : ” تم میں بہتر وہ ہے جو بہتر طرح سے قرض ادا کرے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´جانور میں بیع سلم یا ادھار معاملہ کرنے کا بیان۔`
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک جوان اونٹ بیچا تو میں آپ کے پاس اس کا تقاضا کرنے آیا، آپ نے فرمایا: " میں تو تمہیں بختی (عمدہ قسم کا اونٹ) دوں گا "، پھر آپ نے مجھے ادا کیا تو بہت اچھا ادا کیا، اور آپ کے پاس ایک اعرابی (دیہاتی) اپنا جوان اونٹ مانگتے ہوئے آیا تو آپ نے فرمایا: " اسے جوان اونٹ دے دو "، تو اس دن ان لوگوں نے اسے ایک بڑا (مکمل) اونٹ دیا، اس نے کہا: یہ تو میرے اونٹ سے بہ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4623]
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک جوان اونٹ بیچا تو میں آپ کے پاس اس کا تقاضا کرنے آیا، آپ نے فرمایا: " میں تو تمہیں بختی (عمدہ قسم کا اونٹ) دوں گا "، پھر آپ نے مجھے ادا کیا تو بہت اچھا ادا کیا، اور آپ کے پاس ایک اعرابی (دیہاتی) اپنا جوان اونٹ مانگتے ہوئے آیا تو آپ نے فرمایا: " اسے جوان اونٹ دے دو "، تو اس دن ان لوگوں نے اسے ایک بڑا (مکمل) اونٹ دیا، اس نے کہا: یہ تو میرے اونٹ سے بہ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4623]
اردو حاشہ: "بختی" یہ ایک اچھی قسم کے اونٹ ہوتے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ تجھے تیرے اونٹ سے بہتر اور عمدہ اونٹنی دوں گا۔ اونٹنی کے لحاظ سے مذکر اونٹ کے برابر ہو تب بھی قیمتی شمار ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4623 سے ماخوذ ہے۔