سنن ابن ماجه
كتاب التجارات— کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
بَابُ : بَيْعِ الْمُجَازَفَةِ باب: بغیر ناپ تول کے اندازے سے بیچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2230
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ : كُنْتُ أَبِيعُ التَّمْرَ فِي السُّوقِ ، فَأَقُولُ : كِلْتُ فِي وَسْقِي هَذَا كَذَا فَأَدْفَعُ أَوْسَاقَ التَّمْرِ بِكَيْلِهِ وَآخُذُ شِفِّي فَدَخَلَنِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، فَقَالَ : " إِذَا سَمَّيْتَ الْكَيْلَ فَكِلْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں بازار میں کھجور بیچتا تھا ، تو میں ( خریدار سے ) کہتا : میں نے اپنے اس ٹوکرے میں اتنا ناپ رکھا ہے ، چنانچہ اسی حساب سے میں کھجور کے ٹوکرے دے دیتا ، اور جو زائد ہوتا نکال لیا کرتا تھا ، پھر مجھے اس میں کچھ شبہ معلوم ہوا ، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم کہو کہ اس میں اتنے صاع ہیں تو اس کو خریدنے والے کے سامنے ناپ دیا کرو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´بغیر ناپ تول کے اندازے سے بیچنے کا بیان۔`
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بازار میں کھجور بیچتا تھا، تو میں (خریدار سے) کہتا: میں نے اپنے اس ٹوکرے میں اتنا ناپ رکھا ہے، چنانچہ اسی حساب سے میں کھجور کے ٹوکرے دے دیتا، اور جو زائد ہوتا نکال لیا کرتا تھا، پھر مجھے اس میں کچھ شبہ معلوم ہوا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم کہو کہ اس میں اتنے صاع ہیں تو اس کو خریدنے والے کے سامنے ناپ دیا کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2230]
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بازار میں کھجور بیچتا تھا، تو میں (خریدار سے) کہتا: میں نے اپنے اس ٹوکرے میں اتنا ناپ رکھا ہے، چنانچہ اسی حساب سے میں کھجور کے ٹوکرے دے دیتا، اور جو زائد ہوتا نکال لیا کرتا تھا، پھر مجھے اس میں کچھ شبہ معلوم ہوا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم کہو کہ اس میں اتنے صاع ہیں تو اس کو خریدنے والے کے سامنے ناپ دیا کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2230]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ماپ کر خریدی ہوئی چیز بیچتے وقت بھی ماپ کر ہی دینی چاہیے تاکہ شک شبہ نہ رہے اور گاہک مطمئن ہو جائے۔
(2)
جس مسئلے میں شک ہو عالم سے دریافت کر لینا چاہیے۔
فوائد و مسائل:
(1)
ماپ کر خریدی ہوئی چیز بیچتے وقت بھی ماپ کر ہی دینی چاہیے تاکہ شک شبہ نہ رہے اور گاہک مطمئن ہو جائے۔
(2)
جس مسئلے میں شک ہو عالم سے دریافت کر لینا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2230 سے ماخوذ ہے۔