سنن ابن ماجه
كتاب التجارات— کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
بَابُ : بَيْعِ الْخِيَارِ باب: اختیاری خریداری کا بیان۔
حدیث نمبر: 2185
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ صَالِحٍ الْمَدنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا الْبَيْعُ عَنْ تَرَاضٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیع بیچنے والے اور خریدنے والے کی باہمی رضا مندی سے منعقد ہوتی ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´اختیاری خریداری کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بیع بیچنے والے اور خریدنے والے کی باہمی رضا مندی سے منعقد ہوتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2185]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بیع بیچنے والے اور خریدنے والے کی باہمی رضا مندی سے منعقد ہوتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2185]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
خريد و فروخت میں خریدنے والے یا بیچنے والے میں سے کسی کو مجبور کیا گیا ہو، جبکہ وہ دل سے اس بیع پر راضی نہ ہو تو یہ بیع کالعدم ہے۔
فوائد و مسائل:
خريد و فروخت میں خریدنے والے یا بیچنے والے میں سے کسی کو مجبور کیا گیا ہو، جبکہ وہ دل سے اس بیع پر راضی نہ ہو تو یہ بیع کالعدم ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2185 سے ماخوذ ہے۔