حدیث نمبر: 2183
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو ( بیع منسوخ کرنے کا ) اختیار ہے ، جب تک کہ وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب التجارات / حدیث: 2183
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « سنن النسائی/البیوع 8 ( 4486 ) ، ( تحفة الأشراف : 4600 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/12 ، 17 ، 21 ، 22 ) ( صحیح ) » ( حسن بصری نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے صرف حدیث عقیقہ سنی ہے ، اس لئے سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 4486 | سنن نسائي: 4487

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4486 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´اس حدیث کے الفاظ میں عبداللہ بن دینار پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔`
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو اختیار رہتا ہے جب تک کہ وہ جدا نہ ہوں یا ان میں سے ہر ایک بیع کو اپنی مرضی کے مطابق لے اور وہ تین بار اختیار لیں۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4486]
اردو حاشہ: یا پھر ان میں سے ہر ایک اس سے مراد یہ ہے کہ ہر ایک دوسرے کو کہہ دے، کہ ابھی پسند کر لو، تمہیں اختیار ہے۔ بعد میں واپس نہیں ہو سکے گی۔ دونوں تین دفعہ اس بات کی صراحت کر لیں، پھر باوجود مجلس قائم ہونے کے واپسی کا اختیار نہیں رہے گا۔ اسی مفہوم کو سابقہ روایات میں بیع خیار کہا گیا ہے۔ بیع خیار کا دوسرا مفہوم حدیث نمبر: 4470 میں بیان ہو چکا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4486 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4487 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´اس حدیث کے الفاظ میں عبداللہ بن دینار پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔`
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو اختیار ہوتا ہے جب تک کہ وہ جدا نہ ہوں اور ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے راضی نہ ہو جائے، یا خواہش پوری نہ کر لے (یعنی بیع خیار تک)۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4487]
اردو حاشہ: حتمی رضامندی یعنی واپسی کا اختیار ختم کر لے جیسا کہ بیع خیار کے مفہوم میں گزرا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4487 سے ماخوذ ہے۔