سنن ابن ماجه
كتاب الكفارات— کتاب: قسم اور کفاروں کے احکام و مسائل
بَابُ : النَّهْيِ أَنْ يُقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ باب: یوں کہنا منع ہے ”جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں“۔
حدیث نمبر: 2117
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ الْكِنْدِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا حَلَفَ أَحَدُكُمْ ، فَلَا يَقُلْ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ وَلَكِنْ لِيَقُلْ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شِئْتَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص قسم کھائے تو «ما شاء الله وشئت» ” جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں “ نہ کہے ، بلکہ یوں کہے : «ما شاء الله ثم شئت» ” جو اللہ چاہے پھر آپ چاہیں “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس لئے کہ اس میں مخاطب کو اللہ کے ساتھ کر دیا ہے جس سے شرک کی بو آتی ہے، اگرچہ مومن کی نیت شرک کی نہیں ہوتی پھر بھی ایسی بات کہنی جس میں شرک کا وہم ہو منع ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´یوں کہنا منع ہے ”جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں“۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب کوئی شخص قسم کھائے تو «ما شاء الله وشئت» ” جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں “ نہ کہے، بلکہ یوں کہے: «ما شاء الله ثم شئت» ” جو اللہ چاہے پھر آپ چاہیں “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2117]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب کوئی شخص قسم کھائے تو «ما شاء الله وشئت» ” جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں “ نہ کہے، بلکہ یوں کہے: «ما شاء الله ثم شئت» ” جو اللہ چاہے پھر آپ چاہیں “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2117]
اردو حاشہ:
فائدہ: مسلمان جب یہ لفظ کہتا ہے: ’’جو اللہ چاہے اور فلاں چاہے۔‘‘
تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ معاملات اللہ کے اختیار میں ہیں لیکن ظاہری طور پر معاملہ فلاں کے اختیار میں ہے اس کے فیصلے پر عمل ہوگا۔
یہ بات صحیح ہے لیکن الفاظ اس قسم کے ہیں گویا اللہ تعالیٰ اور انسان مل کر کوئی فیصلہ کرتے ہیں، اس لیے ایسے الفاظ سے اجتناب کرنا چاہیے جن کا ظاہری مطلب نامناسب ہو اگرچہ کہنے والے کا مقصد وہ نامناسب بات نہ ہو۔
فائدہ: مسلمان جب یہ لفظ کہتا ہے: ’’جو اللہ چاہے اور فلاں چاہے۔‘‘
تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ معاملات اللہ کے اختیار میں ہیں لیکن ظاہری طور پر معاملہ فلاں کے اختیار میں ہے اس کے فیصلے پر عمل ہوگا۔
یہ بات صحیح ہے لیکن الفاظ اس قسم کے ہیں گویا اللہ تعالیٰ اور انسان مل کر کوئی فیصلہ کرتے ہیں، اس لیے ایسے الفاظ سے اجتناب کرنا چاہیے جن کا ظاہری مطلب نامناسب ہو اگرچہ کہنے والے کا مقصد وہ نامناسب بات نہ ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2117 سے ماخوذ ہے۔