سنن ابن ماجه
كتاب الكفارات— کتاب: قسم اور کفاروں کے احکام و مسائل
بَابُ : النَّهْيِ أَنْ يُقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ باب: یوں کہنا منع ہے ”جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں“۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَأَى فِي النَّوْمِ ، أَنَّهُ لَقِيَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ : فَقَالَ : نِعْمَ ، الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّكُمْ تُشْرِكُونَ ، تَقُولُونَ : مَا شَاءَ اللَّهُ ، وَشَاءَ مُحَمَّدٌ وَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَمَا وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَعْرِفُهَا لَكُمْ قُولُوا : مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ شَاءَ مُحَمَّدٌ " .
´حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` مسلمانوں میں سے ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ وہ اہل کتاب کے ایک شخص سے ملا تو اس نے کہا : تم کیا ہی اچھے لوگ ہوتے اگر شرک نہ کرتے ، تم کہتے ہو : جو اللہ چاہے اور محمد چاہیں ، اس مسلمان نے یہ خواب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی قسم ! میں اس بات کو جانتا ہوں ( کہ ایسا کہنے میں شرک کی بو ہے ) ۔ لہٰذا تم «ما شاء الله ثم شاء محمد» ” جو اللہ چاہے پھر محمد چاہیں “ کہو ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ الطُّفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ أَخِي عَائِشَةَ لِأُمِّهَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ .
´اس سند سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے` علاتی بھائی طفیل بن سخبرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی مرفوعاً روایت آئی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ وہ اہل کتاب کے ایک شخص سے ملا تو اس نے کہا: تم کیا ہی اچھے لوگ ہوتے اگر شرک نہ کرتے، تم کہتے ہو: جو اللہ چاہے اور محمد چاہیں، اس مسلمان نے یہ خواب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ کی قسم! میں اس بات کو جانتا ہوں (کہ ایسا کہنے میں شرک کی بو ہے)۔ لہٰذا تم «ما شاء الله ثم شاء محمد» " جو اللہ چاہے پھر محمد چاہیں " کہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2118]
فوائد و مسائل:
(1)
’’جو اللہ تعالیٰ، پھر حضرت محمدﷺ چاہیں۔‘‘
اس کا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ چاہے گا صرف وہی ہوگا۔
دوسرے شخص کی مشیت اللہ کے تابع ہے۔
بہ یک وقت دونوں (خالق و مخلوق)
کی مشیت کو ایک قرار دینا واقعی شرک ہے۔
لیکن نبیﷺ کی اصلاح کے بعد شرک کا شائبہ ختم ہو گا اسی لیے یہ ورایت بعض کے نزدیک حسن اور بعض کے نزدیک صحیح ہے۔
(2)
ایسے الفاظ سے اجتناب کرنا چاہیے جن کا مناسب مفہوم بن سکتا ہو۔
(3)
شرعی مسائل خواب سے ثابت نہیں ہوتے لیکن اگر خواب میں کوئی ایسا اشارہ ملے جو قرآن و حدیث کی تعلیمات کے منافی نہ ہو تو اس پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
(4)
صحابہ کرام رضی رضی اللہ عنہم اپنے خواب نبی اکرم ﷺ کو سناتے تھے تاکہ اس کی تعبیر مل جائے اور یہ معلوم ہو جائے کہ خواب کی یہ بات ماننے کے قابل ہے یا نہیں۔