سنن ابن ماجه
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
بَابُ : ضَرْبِ النِّسَاءِ باب: عورتوں کو مارنے پیٹنے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1986M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2147 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´عورتوں کو سزا میں مارنے کا بیان۔`
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " آدمی سے اپنی بیوی کو مارنے کے تعلق سے پوچھ تاچھ نہ ہو گی۔" [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2147]
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " آدمی سے اپنی بیوی کو مارنے کے تعلق سے پوچھ تاچھ نہ ہو گی۔" [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2147]
فوائد ومسائل:
اگر تادیب کی ضرورت ہو، زبانی اور بے رخی سے بیوی اپنے معاملے کو سلجھاتی نہ ہوتو مارنے کی رخصت ہے جیسے کہ سورہ نساء آیت 34 میں آیا ہے۔
یہ روایت بعض ائمہ کے نزدیک ضعیف ہے۔
صحیح ہونے کی صورت میں میں اس کا مطلب وہ مارہے، جس کی اجازت شریعت نے دی ہے۔
یعنی ہلکی سی مار، جس کا مقصد بیوی کی اصلاح اور اسے متنبہ کرنا ہو۔
اگر خاوند ظلم کرے گا، حدسے تجاوز کرے گا یا اسے بلاوجہ مارے پیٹے گا تووہ ظالم ہوگا جس کا اسے حساب دینا پڑے گا۔
اگر تادیب کی ضرورت ہو، زبانی اور بے رخی سے بیوی اپنے معاملے کو سلجھاتی نہ ہوتو مارنے کی رخصت ہے جیسے کہ سورہ نساء آیت 34 میں آیا ہے۔
یہ روایت بعض ائمہ کے نزدیک ضعیف ہے۔
صحیح ہونے کی صورت میں میں اس کا مطلب وہ مارہے، جس کی اجازت شریعت نے دی ہے۔
یعنی ہلکی سی مار، جس کا مقصد بیوی کی اصلاح اور اسے متنبہ کرنا ہو۔
اگر خاوند ظلم کرے گا، حدسے تجاوز کرے گا یا اسے بلاوجہ مارے پیٹے گا تووہ ظالم ہوگا جس کا اسے حساب دینا پڑے گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2147 سے ماخوذ ہے۔