سنن ابن ماجه
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
بَابُ : ضَرْبِ النِّسَاءِ باب: عورتوں کو مارنے پیٹنے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1986
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، والْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ الطَّحَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُسْلِيِّ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : ضِفْتُ عُمَرَ لَيْلَةً ، فَلَمَّا كَانَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ قَامَ إِلَى امْرَأَتِهِ يَضْرِبُهَا ، فَحَجَزْتُ بَيْنَهُمَا ، فَلَمَّا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ ، قَالَ لِي : يَا أَشْعَثُ احْفَظْ عَنِّي شَيْئًا سَمِعْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُسْأَلُ الرَّجُلُ فِيمَ يَضْرِبُ امْرَأَتَهُ ، وَلَا تَنَمْ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ ، وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں ایک رات عمر رضی اللہ عنہ کا مہمان ہوا ، جب آدھی رات ہوئی تو وہ اپنی بیوی کو مارنے لگے ، تو میں ان دونوں کے بیچ حائل ہو گیا ، جب وہ اپنے بستر پہ جانے لگے تو مجھ سے کہا : اشعث ! وہ بات جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تم اسے یاد کر لو : ” شوہر اپنی بیوی کو مارے تو قیامت کے دن اس سلسلے میں سوال نہیں کیا جائے گا ، اور وتر پڑھے بغیر نہ سوؤ “ اور تیسری چیز آپ نے کیا کہی میں بھول گیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2147 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´عورتوں کو سزا میں مارنے کا بیان۔`
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” آدمی سے اپنی بیوی کو مارنے کے تعلق سے پوچھ تاچھ نہ ہو گی۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2147]
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” آدمی سے اپنی بیوی کو مارنے کے تعلق سے پوچھ تاچھ نہ ہو گی۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2147]
فوائد ومسائل:
اگر تادیب کی ضرورت ہو، زبانی اور بے رخی سے بیوی اپنے معاملے کو سلجھاتی نہ ہوتو مارنے کی رخصت ہے جیسے کہ سورہ نساء آیت 34 میں آیا ہے۔
یہ روایت بعض ائمہ کے نزدیک ضعیف ہے۔
صحیح ہونے کی صورت میں میں اس کا مطلب وہ مارہے، جس کی اجازت شریعت نے دی ہے۔
یعنی ہلکی سی مار، جس کا مقصد بیوی کی اصلاح اور اسے متنبہ کرنا ہو۔
اگر خاوند ظلم کرے گا، حدسے تجاوز کرے گا یا اسے بلاوجہ مارے پیٹے گا تووہ ظالم ہوگا جس کا اسے حساب دینا پڑے گا۔
اگر تادیب کی ضرورت ہو، زبانی اور بے رخی سے بیوی اپنے معاملے کو سلجھاتی نہ ہوتو مارنے کی رخصت ہے جیسے کہ سورہ نساء آیت 34 میں آیا ہے۔
یہ روایت بعض ائمہ کے نزدیک ضعیف ہے۔
صحیح ہونے کی صورت میں میں اس کا مطلب وہ مارہے، جس کی اجازت شریعت نے دی ہے۔
یعنی ہلکی سی مار، جس کا مقصد بیوی کی اصلاح اور اسے متنبہ کرنا ہو۔
اگر خاوند ظلم کرے گا، حدسے تجاوز کرے گا یا اسے بلاوجہ مارے پیٹے گا تووہ ظالم ہوگا جس کا اسے حساب دینا پڑے گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2147 سے ماخوذ ہے۔