سنن ابن ماجه
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
بَابُ : تَزْوِيجِ الْعَبْدِ بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ باب: غلام کا نکاح مالک کی اجازت کے بغیر ناجائز ہے۔
حدیث نمبر: 1960
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَصَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا مَنْدَلٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَهُوَ زَانٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس غلام نے اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیا ، تو وہ زانی ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´غلام کا نکاح مالک کی اجازت کے بغیر ناجائز ہے۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس غلام نے اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیا، تو وہ زانی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1960]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس غلام نے اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیا، تو وہ زانی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1960]
اردو حاشہ:
فائدہ: مذکورہ دونوں روایتوں کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے إرواء الغلیل میں اس مسئلہ کی بابت حضرت جابر سے مرفوعاً روایت بیان کی ہے اور اسے حسن قرار دیا ہے اور اس کے شواہد کا بھی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیئے: (إرواء الغلیل: 6؍351، 353، رقم: 1933)
بنا بریں جس طرح عورت کے لیے والد یا سرپرست کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا شرعاً منع ہے اسی طرح غلام کے لیے بھی آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا درست نہیں۔
اس میں یہ حکمت ہے کہ نکاح کے بعد اسے اپنے بیوی بچوں کی طرف توجہ دینی پڑے گی جس سے آقا کی خدمت میں فرق آئے گا، اس لیے اگر آقا احسان کرتے ہوئے اپنے حقوق میں کچھ کمی کرنے پر آمادہ ہو تو غلام کو چاہیے کہ نکاح کر لے، ورنہ صبر کے۔
اور آقا کو چاہیے کہ غلام کو اجازت دے دے تاکہ غلام اپنی عصمت و عفت کو محفوظ رکھ سکے۔
فائدہ: مذکورہ دونوں روایتوں کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے إرواء الغلیل میں اس مسئلہ کی بابت حضرت جابر سے مرفوعاً روایت بیان کی ہے اور اسے حسن قرار دیا ہے اور اس کے شواہد کا بھی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیئے: (إرواء الغلیل: 6؍351، 353، رقم: 1933)
بنا بریں جس طرح عورت کے لیے والد یا سرپرست کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا شرعاً منع ہے اسی طرح غلام کے لیے بھی آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا درست نہیں۔
اس میں یہ حکمت ہے کہ نکاح کے بعد اسے اپنے بیوی بچوں کی طرف توجہ دینی پڑے گی جس سے آقا کی خدمت میں فرق آئے گا، اس لیے اگر آقا احسان کرتے ہوئے اپنے حقوق میں کچھ کمی کرنے پر آمادہ ہو تو غلام کو چاہیے کہ نکاح کر لے، ورنہ صبر کے۔
اور آقا کو چاہیے کہ غلام کو اجازت دے دے تاکہ غلام اپنی عصمت و عفت کو محفوظ رکھ سکے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1960 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2079 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کر لے تو اس کے حکم کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ضعیف، اور موقوف ہے، یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2079]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ضعیف، اور موقوف ہے، یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2079]
فوائد ومسائل:
پہلی روایت صحیح ہے جس سے مسئلے کا اثبات واضح ہے۔
پہلی روایت صحیح ہے جس سے مسئلے کا اثبات واضح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2079 سے ماخوذ ہے۔