حدیث نمبر: 1955
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا كَانَ مِنْ صَدَاقٍ ، أَوْ حِبَاءٍ ، أَوْ هِبَةٍ قَبْلَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهَا وَمَا كَانَ بَعْدَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لِمَنْ أُعْطِيَهُ ، أَوْ حُبِيَ وَأَحَقُّ مَا يُكْرَمُ الرَّجُلُ بِهِ ابْنَتُهُ أَوْ أُخْتُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہر یا عطیہ یا ہبہ میں سے جو نکاح ہونے سے پہلے ہو وہ عورت کا حق ہے ، اور جو نکاح کے بعد ہو تو وہ اس کا حق ہے ، جس کو دیا جائے یا عطا کیا جائے ، اور مرد سب سے زیادہ جس چیز کی وجہ سے اپنے اعزاز و اکرام کا مستحق ہے وہ اس کی بیٹی یا بہن ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1955
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « سنن ابی داود/النکاح 36 ( 2129 ) ، سنن النسائی/النکاح 67 ( 3355 ) ، ( تحفة الأشراف : 8745 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/182 ) ( ضعیف ) » ( سند میں ابن جریج مدلس ہیں ، اور روایت عنعنہ سے ہے )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 3355 | سنن ابي داود: 2129 | بلوغ المرام: 884

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3355 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کھجور کی گٹھلی برابر سونے کے عوض شادی کرانے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس عورت سے نکاح مہر پر کیا گیا ہو یا (مہر کے علاوہ) اسے عطیہ دیا گیا ہو یا نکاح سے پہلے عورت کو کسی چیز کے دینے کا وعدہ کیا گیا ہو تو یہ سب چیزیں عورت کا حق ہوں گی (اور وہ پائے گی)۔ اور جو چیزیں نکاح منعقد ہو جانے کے بعد ہوں گی تو وہ جسے دے گا چیز اس کی ہو گی۔ اور آدمی اپنی بیٹی اور بہن کے سبب عزت و اکرام کا مستحق ہے "، (حدیث کے) الفاظ (راوی [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3355]
اردو حاشہ: اس روایت میں امام نسائی رحمہ اللہ کے دواستاد ہیں: ہلال بن علاء اور عبداللہ بن محمد بن تمیم۔ بیان کردہ الفاظ عبداللہ کے ہیں۔
(1) نکاح سے قبل جو کچھ تحائف دیے جاتے ہیں‘ وہ عورت کی خاطر ہوتے ہیں‘ لہٰذا وہ عورت کے لیے شمار ہوں گے‘ اگرچہ کسی کو بھی ملیں‘ البتہ نکاح کے بعد چونکہ نئے رشتے قائم ہوجاتے ہیں‘ لہٰذا جسے تحفہ ملے گا‘ اسی کا شمار ہوگا۔
(2) کسی کو بیٹی یا بہن کا نکاح دینا بہت بڑا احسان ہے‘ لہٰذا بیوی کے باپ اور بھائی کا احترام لازماً ہے کیونکہ نکاح کا اختیار انہیں تھا۔ بیوی کے باپ کو تیسرا باپ کہا گیا ہے۔ پہلا حقیقی والد‘ دوسرا استاد اور تیسرا سسر۔ اسی طرح بیوی کی والدہ کا بھی احترام ضروری ہے۔ اسی بنا پر تو اس سے نکاح حرام کردیا گیا اور اس سے پردہ نہیں رکھا گیا۔
(3) ظاہراً اس حدیث کا باب سے کوئی تعلق نہیں بنتا‘ الا یہ کہ کہا جائے کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مہر کی کوئی مقدار نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3355 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 884 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´حق مہر کا بیان`
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ نے اپنے باپ سے، انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جس عورت کو مہر عطیہ یا نکاح سے پہلے کسی وعدہ کی بنا پر بیاہ دیا جائے تو یہ اس عورت کا حق ہے اور جو عطیہ نکاح کے بعد دیا جائے تو وہ اسی کا ہے جسے دیا جائے اور وہ چیز جس کی وجہ سے مرد زیادہ تکریم کا مستحق ہے اس کی بیٹی یا اس کی بہن ہے۔ " اسے احمد اور ترمذی کے علاوہ چاروں نے روایت کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 884»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، النكاح، باب في الرجل يدخل بامرأته قبل أن ينقدها شيئًا، حديث:2129، والنسائي، النكاح، حديث:3355، وابن ماجه، النكاح، حديث:1955، وأحمد:2 /182.»
تشریح: یہ حدیث دلیل ہے کہ اگر مرد‘ عورت کے ولی کو کچھ مال دے یا اس سے کوئی وعدہ کرے‘ اگر یہ نکاح سے پہلے ہو توپھر ولی اس مال کا مستحق نہیں ہے‘ خواہ ولی نے اس مال کی اپنے لیے شرط لگائی ہو‘ بلکہ عورت ہی اس کا استحقاق رکھتی ہے‘ البتہ اگر نکاح کے بعد کوئی چیز دی گئی ہے تو وہ اسی کا حق ہے جسے وہ دی گئی ہے‘ خواہ وہ عورت کا ولی ہو یا کوئی اور رشتہ دار یا خود وہ عورت ہی ہو۔
اور یہ معاملہ اس عطیہ یا ہدیہ وغیرہ کا ہے جو مہر کے علاوہ ہو۔
رہا مہر کا معاملہ تو وہ بہرصورت عورت ہی کا حق ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 884 سے ماخوذ ہے۔