حدیث نمبر: 1946
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا رَضَاعَ إِلَّا مَا فَتَقَ الْأَمْعَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رضاعت معتبر نہیں ہے مگر وہ جو آنتوں کو پھاڑ دے “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی جو کم سنی میں دو برس کے اندر ہو۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1946
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 5282 ، ومصباح الزجاجة : 691 ) ( صحیح ) » ( سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں ، لیکن حدیث دوسرے طریق سے صحیح ہے ، نیز ملاحظہ ہو : الإرواء : 2150 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 3311

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´دودھ چھٹنے کے بعد پھر رضاعت ثابت نہیں ہے۔`
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رضاعت معتبر نہیں ہے مگر وہ جو آنتوں کو پھاڑ دے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1946]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
’’آنتوں کو پھاڑنے‘‘ کا مطلب دودھ سے بچے کا سیر ہونا ہے۔
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ رضاعت وہی معتبر ہے جس عمر میں بچے کی غذا ماں کا دودھ ہوا کرتی ہے۔
عام حالات میں بڑی عمر کے بچے کو دودھ پلانے سے رضاعت کا رشتہ قائم نہیں ہوگا۔
مزید دیکھیئے، حدیث: 1943 کے فوائد و مسائل۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1946 سے ماخوذ ہے۔