حدیث نمبر: 1924
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هَرَمِيٍّ ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَدْبَارِهِنَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ حق بات سے شرم نہیں کرتا “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ تین بار فرمایا ، اور فرمایا : ” عورتوں کی دبر میں جماع نہ کرو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1924
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الاشراف : 3530 ، ومصباح الزجاجة : 685 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/213 ، 217 ) ، سنن الدارمی/الطہارة 114 ( 1183 ) ( صحیح ) » ( اس کی سند میں حجاج بن أرطاہ مدلس و ضعیف ہیں ، عنعنہ سے روایت کی ہے ، اور عبداللہ بن ہرمی یا ہرمی بن عبد اللہ مستور ہیں ، لیکن متابعت اور شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے ، نیز ملاحظہ ہو : الإرواء : 2005 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : مسند الحميدي: 440

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´عورتوں سے دبر میں جماع کرنے کی ممانعت۔`
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ تعالیٰ حق بات سے شرم نہیں کرتا " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ تین بار فرمایا، اور فرمایا: " عورتوں کی دبر میں جماع نہ کرو۔‏‏‏‏" [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1924]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جن مسائل کا تعلق اعضائے مستورہ سے ہے، اکثر ان کو بیان کرنے میں شرم محسوس ہوتی ہے لیکن انہیں بیان کرنا بھی ضروری ہے، البتہ الفاظ کا انتخاب مناسب ہونا چاہیے اور نابالغ بچوں کے سامنے بیان نہ کیے جائیں۔
بہتر یہ ہے کہ درس اور تقریر وغیرہ میں یہ مسائل اشارتاً بیان کیے جائیں اور پروائیویٹ مجلس میں مناسب انداز سے صراحت کر دی جائے۔

(2)
دبر نجاست کی جگہ ہے اس لیے مومن اس سے اجتناب کرتا ہے۔
ویسے بھی یہ مقام اس مقصد کے لیے نہیں بنایا گیا اور طبی طور پر اس کے بہت سے نقصانات ہیں۔
جن میں ایک نقصان حال ہی میں ’’ایڈز‘‘ کی بیماری کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
جائز مقام (قبل)
بھی نجاست کے ایام میں ممنوع ہو جاتا ہے تو جو مقام (دبر)
نجاست ہی کے لیے ہے وہ کب جائز ہو سکتا ہے۔

(3)
مرد کا مرد سے یا عورت کا عورت سے جنسی تعلق بہت بڑا گناہ ہے۔
جنسی لواطت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط کی پوری قوم پر پتھر برسا کراور ان لوگوں کی بستیاں الٹ کر انہیں تباہ کر دیا تھا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1924 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 440 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
440- عمارہ بن خزیمہ اپنے والد (سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "بے شک اللہ تعالیٰ حق بات سے حیا نہیں کرتا ہے، تم لوگ خواتین کی پچھلی شرمگاہوں میں صحبت نہ کرو۔" [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:440]
فائدہ:
عورت کی دبر میں وطی کرنا منع اور کبیرہ گناہ ہے، صرف اس جگہ وطی کرنا ثواب ہے جو بچوں کی پیدائش کا محل ہے، اور حالت حیض و نفاس میں بھی بیوی سے جماع کرنا منع ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 440 سے ماخوذ ہے۔