حدیث نمبر: 1910
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " شَهِدْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَةً مَا فِيهَا لَحْمٌ ، وَلَا خُبْزٌ " ، قَالَ ابْن مَاجَةَ : لَمْ يُحَدِّثْ بِهِ إِلَّا ابْنُ عُيَيْنَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ولیمہ میں شریک ہوا ، اس میں نہ گوشت تھا نہ روٹی تھی ۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صرف سفیان بن عیینہ ہی نے علی بن زید بن جدعان سے روایت کی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´ولیمہ کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ولیمہ میں شریک ہوا، اس میں نہ گوشت تھا نہ روٹی تھی۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صرف سفیان بن عیینہ ہی نے علی بن زید بن جدعان سے روایت کی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1910]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ولیمہ میں شریک ہوا، اس میں نہ گوشت تھا نہ روٹی تھی۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صرف سفیان بن عیینہ ہی نے علی بن زید بن جدعان سے روایت کی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1910]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر صحیح اور حسن قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیئے: (الموسوعة الحدیثة مسند الإمام أحمد: 19؍18، وسنن ابن ماجة بتحقیق الدکتور بشار عواد، حدیث: 1910، وصحیح ابن ماجة للألبانی، حدیث: 1564)
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر صحیح اور حسن قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیئے: (الموسوعة الحدیثة مسند الإمام أحمد: 19؍18، وسنن ابن ماجة بتحقیق الدکتور بشار عواد، حدیث: 1910، وصحیح ابن ماجة للألبانی، حدیث: 1564)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1910 سے ماخوذ ہے۔