سنن ابن ماجه
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
بَابُ : تَهْنِئَةِ النِّكَاحِ باب: نکاح پر مبارک باد دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1906
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي جُشَمَ ، فَقَالُوا : بِالرَّفَاءِ وَالْبَنِينَ ، فَقَالَ : لَا تَقُولُوا هَكَذَا ، وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ ، وَبَارِكْ عَلَيْهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے قبیلہ بنی جشم کی ایک عورت سے شادی کی ، تو لوگوں نے ( جاہلیت کے دستور کے مطابق ) یوں کہا : «بالرفاء والبنين» ” میاں بیوی میں اتفاق رہے اور لڑکے پیدا ہوں “ تو آپ نے کہا : اس طرح مت کہو ، بلکہ وہ کہو ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «اللهم بارك لهم وبارك عليهم» ” اے اللہ ! ان کو برکت دے اور اس برکت کو قائم و دائم رکھ “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نکاح پر مبارک باد دینے کا بیان۔`
عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے قبیلہ بنی جشم کی ایک عورت سے شادی کی، تو لوگوں نے (جاہلیت کے دستور کے مطابق) یوں کہا: «بالرفاء والبنين» " میاں بیوی میں اتفاق رہے اور لڑکے پیدا ہوں " تو آپ نے کہا: اس طرح مت کہو، بلکہ وہ کہو، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم بارك لهم وبارك عليهم» " اے اللہ! ان کو برکت دے اور اس برکت کو قائم و دائم رکھ۔" [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1906]
عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے قبیلہ بنی جشم کی ایک عورت سے شادی کی، تو لوگوں نے (جاہلیت کے دستور کے مطابق) یوں کہا: «بالرفاء والبنين» " میاں بیوی میں اتفاق رہے اور لڑکے پیدا ہوں " تو آپ نے کہا: اس طرح مت کہو، بلکہ وہ کہو، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم بارك لهم وبارك عليهم» " اے اللہ! ان کو برکت دے اور اس برکت کو قائم و دائم رکھ۔" [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1906]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
شادی کے موقع پر دلہا اور دلہن کو مبارک باد دینا اور ان کے حق میں دعائے خیر کرنا مسنون ہے۔
(2)
مبارک باد اور دعائے خیر کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ مبارک الفاظ کہے جائیں جو نبی اکرم ﷺ کی زبان مبارک سے ادا ہوئےہیں۔
(3)
غیر اسلامی رسمیں اگرچہ بظاہر بے ضرر ہوں اور ان میں کوئی خرابی محسوس نہ ہوتی ہو پھر بھی انہیں ترک کرکے اسلامی رسمیں اختیار کرنا مناسب ہے تاکہ غیر مسلموں سے امتیاز باقی رہے، اس لیے ایسے رسم و رواج سے اجتناب انتہائی ضروری ہے جو اسلامی آداب معاشرت کے منافی ہیں یا غیر اسلامی عقائد سے تعلق رکھتے ہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
شادی کے موقع پر دلہا اور دلہن کو مبارک باد دینا اور ان کے حق میں دعائے خیر کرنا مسنون ہے۔
(2)
مبارک باد اور دعائے خیر کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ مبارک الفاظ کہے جائیں جو نبی اکرم ﷺ کی زبان مبارک سے ادا ہوئےہیں۔
(3)
غیر اسلامی رسمیں اگرچہ بظاہر بے ضرر ہوں اور ان میں کوئی خرابی محسوس نہ ہوتی ہو پھر بھی انہیں ترک کرکے اسلامی رسمیں اختیار کرنا مناسب ہے تاکہ غیر مسلموں سے امتیاز باقی رہے، اس لیے ایسے رسم و رواج سے اجتناب انتہائی ضروری ہے جو اسلامی آداب معاشرت کے منافی ہیں یا غیر اسلامی عقائد سے تعلق رکھتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1906 سے ماخوذ ہے۔