حدیث نمبر: 1895
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَالْخَلِيلُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَا : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ إِلْيَاسَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ ، وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالْغِرْبَالِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس نکاح کا اعلان کرو اور اس پر دف بجاؤ “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1895
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف دون الشطر الأول فهو حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, ترمذي (1089), خالد بن إياس: متروك, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 17453 ، ومصباح الزجاجة : 675 ) ( ضعیف ) » ( اس کی سند میں خالد بن الیاس ضعیف و متروک الحدیث ہے ، لیکن «أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ» کا جملہ حسن ہے ، نیز ملاحظہ ہو : الإرواء : 1993 ، سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 982 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1089

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نکاح کے اعلان کرنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نکاح کا اعلان کرو اور اس پر دف بجاؤ۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1895]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نکاح کا اعلان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایجاب و قبول مسلمانوں کی مجلس میں کیا جائے اور ولیمے کی دعوت کی جائے تاکہ عام لوگوں کو اس کا علم ہو جائے کہ فلاں شخص کا نکاح فلاں خاتون سے ہوا ہے۔
اس طرح ناجائز تعلقات کا راستہ بند ہو جائے گا۔

(2)
اس روایت کا پہلا حصہ شیخ البانی رحمة الله عليه  کے نزدیک حسن ہے۔
دیکھیئے: (إرواء الغلیل: 7؍50، رقم: 1993)
تاہم دف بجانے کا ذکر بھی دیگر روایات سے ثابت ہے، بشرطیکہ شرعی حدود کے اندر ہو جیسا کہ آگے وضاحت آرہی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1895 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1089 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´نکاح کے اعلان کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نکاح کا اعلان کرو، اسے مسجدوں میں کرو اور اس پر دف بجاؤ۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب النكاح/حدیث: 1089]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں عیسیٰ بن میمون ضعیف ہیں مگراعلان والا ٹکڑا شواہد کی بناپر صحیح ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1089 سے ماخوذ ہے۔