حدیث نمبر: 1894
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ قُرَّةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ أَمْرٍ ذِي بَالٍ لَا يُبْدَأُ فِيهِ بِالْحَمْدِ أَقْطَعُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو بھی اہم کام اللہ کی حمد و ثنا سے نہ شروع کیا جائے ، وہ برکت سے خالی ہوتا ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1894
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (4840), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
تخریج حدیث « سنن ابی داود/الأدب 21 ( 4840 ) ، ( تحفة الأشراف : 15232 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/359 ) ( ضعیف ) » ( متصل مرفوع حدیث ضعیف ہے ، قرة کی وجہ سے مرسل صحیح ہے )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4840

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4840 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´بات چیت کے آداب کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ کلام جس کی ابتداء الحمدللہ (اللہ کی تعریف) سے نہ ہو تو وہ ناقص و ناتمام ہے۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یونس، عقیل، شعیب، اور سعید بن عبدالعزیز نے زہری سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4840]
فوائد ومسائل:
یہ روایت سندَ ا ضعیف ہے۔
تاہم اس کے بعد آنے والی صحیح روایت سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ اس سے مراد عام گفتگو نہیں، بلکہ اہم گفتگو اور خطبہ و تقریر وغیرہ ہے، لہذا خطبے کی ابتدا میں حمدوثنا کرنا تاکیدی عمل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4840 سے ماخوذ ہے۔