حدیث نمبر: 1865
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ ثابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَ امْرَأَةً ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا ، فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا " فَفَعَلَ ، فَتَزَوَّجَهَا ، فَذَكَرَ مِنْ مُوَافَقَتِهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے نکاح کرنا چاہا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” جاؤ اور اس کو دیکھ لو ایسا کرنے سے زیادہ امید ہے کہ تم دونوں کے درمیان الفت و محبت ہو “ ، مغیرہ رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا ، اور پھر شادی کی ، پھر انہوں نے اس سے اپنی باہمی موافقت اور ہم آہنگی کا ذکر کیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1865
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, حَدَّثَنِي
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 490 ، ومصباح الزجاجة : 665 ) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/النکاح 5 ( 1087 ) ، سنن النسائی/النکاح 17 ( 3237 ) ، مسند احمد ( 4/245 ، 246 ) ، سنن الدارمی/النکاح 5 ( 2218 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جس عورت سے شادی کرنی ہو اس کو دیکھنے کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے نکاح کرنا چاہا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: " جاؤ اور اس کو دیکھ لو ایسا کرنے سے زیادہ امید ہے کہ تم دونوں کے درمیان الفت و محبت ہو "، مغیرہ رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا، اور پھر شادی کی، پھر انہوں نے اس سے اپنی باہمی موافقت اور ہم آہنگی کا ذکر کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1865]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
رسول اللہ ﷺ کے ارشاد پر عمل کرنے میں بڑی برکت ہے۔
نکاح سے پہلے جائز حدود میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ لینے سے ایک دوسرے کی طرف میلان ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں نکاح کے بعد باہم ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے۔
جواز صرف ایک نظر دیکھ لینے کا ہے۔
تنہائی میں ایک دوسرے سے ملاقات کرنا اور طویل بات چیت یا اکٹھے سیر کو جانا وغیرہ یہ سب کام دین کے صریح خلاف ہیں۔
اس حدیث سے ایسے کاموں کا جواز نہیں نکلتا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1865 سے ماخوذ ہے۔